سب کچھ ہے وہی نئے برس میں
ہم آج بھی ہیں اسی قفس میں
بس یاد ہے ان لبوں کی جنبش
شعلہ سا کھلا تھا جیسے خس میں
اس چشمِ جہت نگر کے صدقے
ڈوبے نہیں حرفِ کم نفس میں
ہم اور نوائے نے و نوحہ
تم اور وفا جفا کی قسمیں
ہر پھر کے انہی کی آڑ روئے
کچھ لفظ تھے اپنی دسترس میں
معلوم تھی سرخ...