یہ معرہ نظم ہے دوبار مفاعیلن سے منظوم، اس لیے آزاد نظم تو نہیں کہنا چاہیے۔ فلسفی نے سنٹر الائن ہی کیا ہے کوئی ایسی غلطی نہیں۔
فوزیہ سے یہ کہوں گا کہ چھوٹی ہ یہاں I کی کنجی پر ہے h پر ھ ہے، اس لیے ہو، ہی، ہے کو ھو، ھی، ھے لکھنا غلط ہے ۔
نظم میں
اگر در کهل بهی جائے تو
وه پهر بهی اڑ نہیں سکتا
...