دکھ ہوا یہ جان کر۔ ہمارے ایک عزیز کے والد کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہوا۔ ان کی نظر وقت کے بدلتے تقاضوں پر نہ تھی۔ سن دو ہزار کے قریب اُن کو کارڈز کی شاپ کھولنے کا خیال چرایا۔ اُن کی کتابوں کی شاپ ہوا کرتی تھی، وہ انہوں نے ختم کر دی اور ہر طرح کے دیدہ زیب کارڈز سجا لیے جیسا کہ عیدکارڈ، سالگرہ کارڈ،...