مہر روشن چھپ گيا ، اٹھی نقاب روئے شام
شانہ ہستی پہ ہے بکھرا ہوا گيسوئے شام
يہ سيہ پوشی کی تياری کس کے غم ميں ہے
محفل قدرت مگر خورشيد کے ماتم ميں ہے
کر رہا ہے آسماں جادو لب گفتار پر
ساحر شب کي نظر ہے ديدہ بيدار پر
غوطہ زن درياے خاموشی ميں ہے موج ہوا
ہاں ، مگر اک دور سے آتی ہے آواز درا
دل کہ ہے بے...