نتائج تلاش

  1. کاشفی

    بلوچیوں کے گیت - جناب علی احمد

    بلوچیوں کے گیت (جناب علی احمد ، ستمبر 1947ء پاکستان) بلوچی شاعری کے وجود کا علم اس وقت تک کسی کو نہ ہوا تھا جب تک کہ لیچ نے "بلوچی زبان کا خاکہ" کے عنوان سے چند مسلسل مضامین 1840ء کے "جرنل آف دی ایشیاٹک سوسائٹی بنگال" میں شائع نہ کئے۔ لیکن چھاپے کی خرابیوں اور عملے کی غلطیوں کی وجہ سے یہ نظمیں...
  2. کاشفی

    میر مہدی مجروح کیوں منہ چھپا ہے، کس لیئے اتنا حجاب ہے - میر مہدی مجروح

    شکریہ فرخ منظور صاحب! خوش رہیں۔۔ شکریہ صائمہ شاہ صاحبہ!
  3. کاشفی

    میر مہدی مجروح منہ چھپانے لگے حیا کر کے - میر مہدی مجروح

    غزل (میر مہدی مجروح) منہ چھپانے لگے حیا کر کے ہوئے بیگانہ آشنا کر کے ایسے پھر چہچہے نہ ہوویں گے مجھ کو پچھتاؤ گے رہا کر کے لطف کیسا، وفا ہے کیا، وہ تو رکھتے احسان ہیں، جفا کر کے رہ کے مسجد میں کیا ہی گھبرایا رات کاٹی خدا خدا کر کے اب وہ باتیں کہاں، کبھی پہلے گالیاں سنتے تھے دعا کر کے...
  4. کاشفی

    میر مہدی مجروح کیوں منہ چھپا ہے، کس لیئے اتنا حجاب ہے - میر مہدی مجروح

    غزل (میر مہدی مجروح) کیوں منہ چھپا ہے، کس لیئے اتنا حجاب ہے تیری تو شرم ہی ترے رُخ پر نقاب ہے بیکار اپنی عرضِ تمنّا نہ جائے گی میرا حریف غمزہء حاضر جواب ہے مشکل ہے وصل میں بھی تلافی فراق کی پہلو میں گر یہی دلِ حسرت مآب ہے آتش کی آب اُس کی بقا پر دلیل ہے میں بھی ہوں جب تلک نفسِ شعلہ تاب...
  5. کاشفی

    میر مہدی مجروح ہم اپنا جو قصّہ سنانے لگے - میر مہدی مجروح

    مغزل بھائی اور فرخ منظور صاحب آپ دونوں کا بیحد شکریہ۔۔خوش رہیں۔
  6. کاشفی

    میر مہدی مجروح کیا غصّہ میں آتا ہے جو کرتا ہوں گِلا میں - میر مہدی مجروح

    غزل کی پسندیدگی کے لیئے آپ کا بھی بیحد شکریہ مغزل بھائی۔۔ جیتے رہیں خوش و خرم رہیں سدا۔آمین
  7. کاشفی

    میر مہدی مجروح قتل کرتا ہے تو کر خوف کسی کا کیا ہے - میر مہدی مجروح

    سر کو تن سے مرے جُدا کیجے یہ بھی جھگڑا ہے فیصلا کیجے ------------------- خدا رکھے مرے مجروح مست کو زندہ کہ میکدہ میں ہے اس دم سے ہائے ہو باقی :)
  8. کاشفی

    میر مہدی مجروح قتل کرتا ہے تو کر خوف کسی کا کیا ہے - میر مہدی مجروح

    شکریہ مغزل بھائی۔ سلامتی ہو آپ پر بھی۔۔خوش رہیں۔
  9. کاشفی

    میر مہدی مجروح ہم اپنا جو قصّہ سنانے لگے - میر مہدی مجروح

    غزل (میر مہدی مجروح) ہم اپنا جو قصّہ سنانے لگے وہ بولے کہ پھر سر پھرانے لگے کہا تھا اُٹھا پردہء شرم کو وہ اُلٹا ہمیں کو اُٹھانے لگے ذرا دیکھئے اُن کی صنّاعیاں مجھے دیکھ کر مُنہ بنانے لگے کہا میں نے مِل یا مجھے مار ڈال وہ جھٹ آستینیں چڑہانے لگے مجھے آتے دیکھا جونہی دور سے قدم اور جلدی...
  10. کاشفی

    میر مہدی مجروح نوحہ: بیادِ غالب - از: میر مہدی مجروح

    شاہ حسین صاحب، محمد وارث صاحب اور فرخ منظور صاحب، آپ تینوں احباب کا بیحد شکریہ۔۔خوش رہیں۔۔
  11. کاشفی

    میر مہدی مجروح قتل کرتا ہے تو کر خوف کسی کا کیا ہے - میر مہدی مجروح

    غزل (میر مہدی مجروح) قتل کرتا ہے تو کر خوف کسی کا کیا ہے سر یہ موجود ہے ہردم کا تقاضا کیا ہے نزع کے وقت یہ آنکھوں کا اشارا کیا ہے سامنے میرے دھرا ساغرِ صہبا کیا ہے اپنا یوں دُور سے آ آکے دکھانا جوبن اور پھر پوچھنا مجھ سے کہ تمنّا کیا ہے چشم پُر آب مری دیکھ کے ہنس کر بولے یہ تو اک نوح کا...
  12. کاشفی

    ناصر کاظمی بے حجابانہ انجمن میں آ ۔ ناصر کاظمی

    واہ! بہت ہی خوب۔ شیئر کرنے کے لیئے بہت شکریہ فرخ منظور صاحب !
  13. کاشفی

    میر مہدی مجروح آج نکلا جو آفتاب نہیں - میر مہدی مجروح

    محمد وارث صاحب، عبدالرزاق قادری صاحب، محمد احمد بھائی اور صائمہ شاہ صاحبہ، آپ تمام محفلین کا بیحد شکریہ۔۔۔
  14. کاشفی

    میر مہدی مجروح کیا غصّہ میں آتا ہے جو کرتا ہوں گِلا میں - میر مہدی مجروح

    غزل (میر مہدی مجروح) کیا غصّہ میں آتا ہے جو کرتا ہوں گِلا میں خود آپ اُنہیں چھیڑ کے لیتا ہوں مزا میں فتنہ نے کہا دور ہی سے دیکھ کے اُن کو یہ آکے اگر ناز سے بیٹھا تو اُٹھا میں کیا پھول کے غنچہ ہے سرشاخ پہ خنداں سمجھا ہے اسی طرح گزاروں گا سدا میں کیا تم کو بھی اُلفت ہے یہ کہہ دیجئے سچ سچ...
  15. کاشفی

    میر مہدی مجروح آج نکلا جو آفتاب نہیں - میر مہدی مجروح

    غزل (میر مہدی مجروح) آج نکلا جو آفتاب نہیں اُس کے چہرہ پہ کیا نقاب نہیں اس کے لینے میں اضطراب نہیں آبِ حیواں ہے یہ شراب نہیں بوسہ غیروں کو کیوں نہ دیجے گا یہ مری بات کا جواب نہیں اُس کی زلفیں بنا رہے ہیں غیر دل کو بیوجہ پیچ و تاب نہیں ڈوبی اُس بحر میں مری کشتی موج کو جس میں اضطراب نہیں...
Top