غزل
(پنڈت برج ناراین چکبست لکھنوی)
فنا کا ہوش آنا زندگی کا دردسر جانا
اجل کیا ہے خمار بادہء ہستی اُتر جانا
عزیزانِ وطن کو غنچہ و برگ و ثمر جانا
خدا کو باغباں اور قوم کو ہم نے شجر جانا
کرشمہ یہ بھی ہے اے بےخبر افلاسِ قومی کا
تلاشِ رزق میں اہلِ ہنر کا دربدر جانا
مصیبت میں بشر کے جوہر...