طفلی نہ رہی کہ تھی وہ جانے والی
کیا رہتی جوانی تھی مٹانے والی
پیری کو رشید بس غنیمت سمجھو
اب فصل نہیں ہے کوئی آنے والی
(شاعر: م م ن یعنی مجھے معلوم نہیں :) )
غزل
(مرزا محمد ہادی عزیز - 1906ء)
کاش سنتے وہ پُر اثر باتیں
دل سے جو کی تھیں رات بھر باتیں
بے اثر کب ہے تری خاموشی
کر رہی ہے تری نظر باتیں
کوئی سمجھائے آ کے ناصح کو
سُن سکے کون اسقدر باتیں
اُس کے افسانے بن گئے لاکھوں
میں نے جو کیں تھیں عمر بھر باتیں
دم اُلٹ جائے گا عزیز عزیز
رہ نہ...
غزل
(جلال الدین اکبر)
فنا اُسی رنگ پر ہے قائم، فلک وہی چال چل رہا ہے
شکستہ و منتشر ہے وہ کل، جو آج سانچے میں ڈھل رہا ہے
یہ دیکھتے ہو جو کاسہء سر، غرور و غفلت سے کل تھا مملو
یہی بدن ناز سے پلا تھا، جو آج مٹی میں گَل رہا ہے
سمجھ ہو جسکی بلیغ سمجھے، نظر ہو جس کی وسیع دیکھے
کبھی یہاں خاک بھی...