غزل
(مصطفیٰ زیدی)
بُزرگو، ناصحو، فرمارواؤ
ہمیں تو مےکدے تک چھوڑ آؤ
امیرانہ بھی اس کُوچے میں آؤ
لب و رُخسار و مِژگاں کے گداؤ
اُبھرتی جارہی ہےشمع کی لَو
بڑی نادان ہو، ٹھنڈی ہواؤ
ہزاروں راز عُریاں ہورہے ہیں
گِراؤ، آنکھ پر چلمن گراؤ
وہ مجھ سے اور میں اُن سے خفا ہوں
ندیمو، آکے دونوں کو...