نتائج تلاش

  1. کاشفی

    تعارف طارق شاہ

    اردو محفل میں خوش آمدید جناب طارق صاحب!۔ آپ کے بارے میں جان کر اچھا لگا۔ خوش رہیئے۔۔۔
  2. کاشفی

    نئیں بولے تو سنتے نئیں ۔ خواہ مخواہ حیدرآبادی

    اَیّو ! اِتّی پیاری سی گندی نظم۔ نئیں بولے تو سنتے نئیں۔ فاتح الدین بشیر صاحب اور محمد خلیل الرحمٰن صاحب آپ دونوں کا بیحد شکریہ۔۔
  3. کاشفی

    رضا ہم تمہارے ہو کے کس کے پاس جائیں

    جزاک اللہ۔ بہت ہی عمدہ انتخاب ہے۔۔خوش رہیئے۔۔
  4. کاشفی

    میر شب فراق کس امید پر سحر کریئے

    میرتقی میر کی خوبصورت غزل شیئر کرنے کے لیے بہت شکریہ زبیر صاحب!
  5. کاشفی

    افتخار عارف غزل ۔ میرا شرف کہ تو مجھے جوازِ افتخار دے ۔ افتخار عارف

    بہت ہی عمدہ اور اعلٰی انتخاب۔۔بیحد شکریہ شیئر کرنے کے لیئے۔۔
  6. کاشفی

    فراز چلو وہ عشق نہیں چاہنے کی عادت ہے

    بہت خوبصورت انتخاب۔۔شکریہ بہت بہت شیئر کرنے کے لیئے۔۔
  7. کاشفی

    حضورِ داورِ محشر ، گناہ گار آئے - پنڈت بشن نراین صاحب در المتخلص بہ ابر لکھنوی

    آپ دنوں درست فرمارہے ہیں۔ ایسا ہی ہے۔۔ غلطی سے جونبار ٹائپ ہوگیا ہے۔۔درست جوئے بار ہی ہے۔۔ شکریہ بہت بہت آپ دونوں کا۔
  8. کاشفی

    آج کا شعر - 5

    رہنے کیا آئے تھے دُنیا میں امیر سیر کرلی اور اپنے گھر چلے (امیر مینائی)
  9. کاشفی

    حضورِ داورِ محشر ، گناہ گار آئے - پنڈت بشن نراین صاحب در المتخلص بہ ابر لکھنوی

    بچوں کو ماں کی گود بھی مکتب سے کم نہیں اس مدرسے میں حاجتِ لوح و قلم نہیں (پنڈت بشن نراین در)
  10. کاشفی

    حضورِ داورِ محشر ، گناہ گار آئے - پنڈت بشن نراین صاحب در المتخلص بہ ابر لکھنوی

    اثر ہو سننے سے کانوں کو یا نہ ہو لیکن جو فرض تھا وہ ادا کرچکی زبان اپنا (پنڈت بشن نراین در)
  11. کاشفی

    حضورِ داورِ محشر ، گناہ گار آئے - پنڈت بشن نراین صاحب در المتخلص بہ ابر لکھنوی

    جب نہ سوجھی راہِ حق گم گشتگانِ دہر کو شیخ کوئی ہوگیا کوئی برہمن ہوگیا (پنڈت بشن نراین در)
  12. کاشفی

    حضورِ داورِ محشر ، گناہ گار آئے - پنڈت بشن نراین صاحب در المتخلص بہ ابر لکھنوی

    نیّتِ پاک ہی کافی ہے طہارت کے لئے نہ وضو چاہیئے زاہد نہ تیمم مجھ کو (پنڈت بشن نراین در)
  13. کاشفی

    حضورِ داورِ محشر ، گناہ گار آئے - پنڈت بشن نراین صاحب در المتخلص بہ ابر لکھنوی

    غزل (پنڈت بشن نراین صاحب در المتخلص بہ ابر لکھنوی) حضورِ داورِ محشر ، گناہ گار آئے ظہورِ عفووکرم کے، اُمیدوار آئے جو چاہے جور خزاں ہوں یقین رکھ بلبل بہار آئے، پھر آئے، ہزار بار آئے کریم دیتا ہے گھر بیٹھے یوں فقیروں کو چمن میں جس طرح دریا سے ،جونبار آئے نہ جانے مررہی بلبل کس آشیانے میں ہر...
  14. کاشفی

    شکل پیشِ نظر کسی کی ہے- مالک الدولہ صولت

    غزل (مالک الدولہ صولت) شکل پیشِ نظر کسی کی ہے ایک صورت یہ دل لگی کی ہے میرا دل تو نہ تھا کسی لائق نظرِ لطف آپ ہی کی ہے اور کچھ تم سے واسطہ نہ سہی جان پہچان تو کبھی کی ہے دیں ہمیں دل، ہمیں ہوں پھر مجرم واہ کیا خوب منصفی کی ہے شورشِ قلب ِ زار سن سن کر اس نے کیسی جلی کٹی کی ہے
Top