نتائج تلاش

  1. الف عین

    طرحی غزل برائے اصلاح

    افاعیل درست یہ ہیں مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن /فاعلات دامن کو تیرے بعد بچاتا نہیں ہوں میں اب آگ بھی لگی ہو بجھاتا نہیں ہوں میں .. واضح نہیں۔تیرے بعد سے کیا مراد ہے؟ رہتا ہے میرے بعد پریشان کس لئے پہلے کی طرح تجھکو ستاتا نہیں ہوں میں .. یہاں میرے بعد سے مراد ہے کہ میری ستانے کی عادت چھوڑنے کے...
  2. الف عین

    ہم بنائیں گے وطن کو اک فلاحی مملکت----- برائے اصلاح

    مطلع کے دونوں متبادل نا مناسب لگتے ہیں، یوں کہیں تو؟ جیسی تھی تاریخ میں عثمانیہ کی سلطنت بھکاری والا مصرع بھی نہیں پسند آیا 'دوسروں کے واسطے' مزید ابہام پیدا کرتا ہے۔ میں یہ گرہ لگاتا ہوں بھیک لینے کے لیے اب ہو گئے /چکے مجبور ہم مقطع درست ہو گیا ہے
  3. الف عین

    ہم بنائیں گے وطن کو اک فلاحی مملکت----- برائے اصلاح

    ہم بنائیں گے وطن کو اک فلاحی مملکت تھی قرونِ اولیٰ میں جس طرح کی سلطنت -------------- دوسرا مصرع بحر سے خارج، شاید اولیٰ کے واؤ پر تشدید سمجھتے ہیں! یہ oola تلفظ کیا جاتا ہے کیا پاکستان قرون اولیٰ میں وجود رکھتا تھا؟ لوگ ہم کو جانتے ہیں بھیک منگی قوم ہیں -----یا بھیک ہم جو مانگتے ہیں دوسری...
  4. الف عین

    جب لکھا دل پہ فقط نام تمھارا دیکھا

    پہلے دونوں اشعار درست ہیں لوٹ جاؤں اسی گرداب میں خواہش تھی مری بحرِ تنہائی میں جب ڈوبا کنارا دیکھا ... واضح نہیں ہوا، ڈوبا کے الف کا اسقاط بھی ناگوار لگ رہا ہے، یہ مصرع ... ڈوبا جو کنارا دیکھا کیا جا سکتا ہے، اگر مطلب واضح ہو رہا ہو ہر ورق پر مجھے تصویر تمھاری ہی ملی اپنے ہاتھوں سے لکھا جب...
  5. الف عین

    خود سمجھ پائے نہ توقیر مرے خوابوں کی

    درست لگ رہی ہے غزل چوتھے شعر میں ربط کی کمی محسوس ہوتی ہے
  6. الف عین

    غزل برائے اصلاح : رگِ جاں سے دل تک مہکتے بھی تم ہو

    'پھر' اور 'اور' سے شروع ہونے والے مصرع خارج از بحر ہیں، فعولن کے فعو سے شروع نہیں ہوتے، فع یا فاع سے شروع ہو رہے ہیں دوسری خامی، آنچل اور چوڑیاں خود ہی سرکتا ہے/ چھنکتی ہیں۔ کوئی اوع فاعل ہو تو یہ سرکانا اور چھنکانا کہا جاتا ہے۔ مقطع کا پہلا مصرعہ نا مکمل بھی ہے یہ غلطیاں درست ہو جائیں تو پھر...
  7. الف عین

    بَنیں گے کوئے جاں کی خاک، چھوڑ در نَہ پائیں گے

    اُر رواں نہیں اس لیے نا گوار لگتا ہے، مکمل اور، فاع کے وزن پر ہی درَت ہے
  8. الف عین

    اگر چاہو تو آپس میں گزارا ہو بھی سکتا ہے---برائے اصلاح

    اگر چاہو ہمارا دل تمہارا ہو بھی سکتا ہے تمہارا دل بھی ایسے ہی ہمارا ہو بھی سکتا ہے ----------- ٹھیک، مگر بات تو کچھ بھی نہیں ہوئی نہیں مجھ سے محبّت پھر کروں تم سے محبّت کیوں تمہارا ساتھ ایسے ہی گوارا ہو بھی سکتا ہے ---------یا جہاں تک ساتھ رہنا ہے ،گوارا ہو بھی سکتا ہے -------------- شعر سمجھ...
  9. الف عین

    اگر چاہو تو آپس میں گزارا ہو بھی سکتا ہے---برائے اصلاح

    میاں بیوی آپس میں گزارا نہیں کرتے، ہاں جب تعلقات خراب ہوتے ہیں اور وہ ساتھ رہنے کے لیے مجبور ہوتے ہوں تو کہہ سکتے ہیں کہ گزارا کرنا پڑتا ہے۔ گزارا ہونا یا گزارا کرنا اس طرح استعمال ہوتا ہے کہ جیسے' کم آمدنی میں گزارا کرنا پڑ رہا ہے '
  10. الف عین

    بَنیں گے کوئے جاں کی خاک، چھوڑ در نَہ پائیں گے

    بَنیں گے کوئے جاں کی خاک، چھوڑ در نہ پائیں گے نگر نگر رلیں گے، یہ جبیں کدھر جھکائیں گے؟ ... کوئے جاناں کہنا بہتر ہو گا کہ شاید مفہوم وہی ہے۔ یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ کس کا در؟ پہلا مصرع بدلو دلِ اُمید! وُہ نہ آئے ہیں، ہے دیپ بجھنے کو زماں مکاں کی قید سے تو ہم نکل ہی جائیں گے ... بجھنے کی ے...
  11. الف عین

    غزل برائے اصلاح

    عنوان تک پتہ نہیں طرزِ جہان کا کم بخت وقت آن پڑا امتحان کا ... طرز کا عنوان؟ یہ محاورہ نہیں۔ مفہوم واضح نہیں پوا منزل یقین کی، ہو میسر، بعید ہے کٹتا نہیں ہے مرحلہ وہم و گمان کا .... پہلے مصرع کا انداز بیان ذرا واضح نہیں۔ منزل ملنے کو منزل کا میسر ہونا بھی خلاف محاورہ ہے ممکن نہیں یقین کی منزل...
  12. الف عین

    غزل برائے اصلاح

    عنوان تک پتہ نہیں طرزِ جہان کا کم بخت وقت آن پڑا امتحان کا ... طرز کا عنوان؟ یہ محاورہ نہیں۔ مفہوم واضح نہیں پوا منزل یقین کی، ہو میسر، بعید ہے کٹتا نہیں ہے مرحلہ وہم و گمان کا .... پہلے مصرع کا انداز بیان ذرا واضح نہیں۔ منزل ملنے کو منزل کا میسر ہونا بھی خلاف محاورہ ہے ممکن نہیں یقین کی منزل...
  13. الف عین

    نظم برائے اصلاح

    اچھی نظم ہے ماشاء اللہ
  14. الف عین

    نظم برائے اصلاح

    صاف و ستھرا تو غلط ہے کہ ستھرا ہندی لفظ ہے، واو عطف اس میں نہیں لگ سکتا، دوسرا متبادل بہتر ہے۔ چاند لگو گے،تارے لگو گے صاف رہو گے پیارے لگو گے ویسے تو درست ہے لیکن 'تارے لگو گے' کچھ عجیب لگ رہا ہے چاند ستاروں جیسے لگو گے کیسا رہے گا؟
  15. الف عین

    اگر چاہو تو آپس میں گزارا ہو بھی سکتا ہے---برائے اصلاح

    اس پر خود ہی نظر ثانی کریں اور دیکھیں کہ جو بات کہنا چاہتے ہیں وہ درست ادا ہوتی بھی ہے؟ مطلع میں ہی 'آپس میں گزارا ہونا' سے کیا مراد ہے، میں سمجھ نہیں سکا۔ پیار، پیارا، پیاز، کیا سوالیہ، سب میں ی خاموش ہوتی ہے۔ درست تقطیع محض پارا ہو گی، فعلن۔ فعولن نہیں
  16. الف عین

    اگر چاہو تو آپس میں گزارا ہو بھی سکتا ہے---برائے اصلاح

    یہ والے خلیل بھائی کوئی دوسرے ہی ہیں! محمد خلیل الرحمٰن کا درست ٹیگ یہ ہے۔
  17. الف عین

    غزل برائے اصلاح : مطلب ہے صرف ہم کو اپنے جناب سے

    یہ خود ساختہ بحر محسوس ہوتی ہے پ، مستعمل نہیں۔ اس میں تو اساتذہ بھی محض تقطیع کرتے رہ جائیں گے، دوسرے رموز پر توجہ نہیں دے سکیں گے۔ مستعمل بحر میں تبدیل کریں جیسے مفعول فاعلاتن مفعول فاعلاتن یا مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن ، زمین، کتاب سے، جناب سے، تو فاعلن پر ختم ہوتی ہے
  18. الف عین

    ٌلڑکپن کے زمانے کی ایک غزل

    سوکھ جانا تو دبلا ہو جانے کے لیے کہا جاتا ہے، میرے خیال میں یہ مطلب ہرگز نہیں ہے شعر کا!
  19. الف عین

    ٌلڑکپن کے زمانے کی ایک غزل

    روکھ سا جانا... محاورہ سمجھ میں نہیں آیا۔ شاید مقامی محاورہ ہو 'مسکاتی' اچھا ہی لگ رہا ہے، ہاں، اگر زبان فارسی آمیز ہوتی تو اعتراض درست تھا، پوری غزل ہی 'ہندوستانی' زبان میں ہے
  20. الف عین

    بھول جاتے ہیں خطائیں جب کسی سے پیار ہو ---برائے اصلاح

    ابھی بھی مجھے تو اکثر ویسی ہی اغلاط محسوس ہو رہی ہیں اس کی خامی بھی گوارا جب کسی سے پیار ہو جس طرح بھی ہو سکے محبوب کا دیدار ہو ------------- دونوں مصرعوں میں ربط نہیں لگتا۔ پھر پہلے مصرع میں بات بھی نا مکمل لگتی ہے، 'ہم کو اس کی ہر خامی گوارا لگتی ہے جس سے پیار کیا جائے' شاید یہ بات کہنا تھی...
Top