نتائج تلاش

  1. الف عین

    نفرتوں کی بات سے انکار ہونا چاہئے

    نفرتوں سے اب ہمیں انکار ہونا چاہئے زندگی میں پیار کا پرچار ہونا چاہئے -----------یا نفرتوں سے اب ہمیں بیزار ہونا چاہئے چاہتوں کا گرم اک بازار ہونا چاہئے ------------ دوسرا متبادل مطلع بہتر ہے، دوسرے مصرعے میں اک کی جگہ 'پھر' بہتر ہو گا جاگتے ہیں آج جیسے جو ہیں دشمن پیار کے عاشقوں کو اس طرح...
  2. الف عین

    خلق میں ایک ہی تو نام نہیں

    اچھی غزل ہے ماشاء اللہ راحل نے پاؤں کی طرف اچھی توجہ دلائی ہے۔ پاؤں بمعنی پیر کا رواں تلفظ فعل ہوتا ہے فاعلن نہیں۔ جب کہ پانا مصدر سے پاؤں کا بہتر تلفظ بر وزن فعلن ہے۔ یہاں پاؤں تلک کر دینے سے روانی بہتر ہی لگتی ہے
  3. الف عین

    دل یہ کرتا ہے اجتناب کروں (اصلاح طلب)

    کیوں کسی کو آپ جناب کروں بحر سے خارج ہو گیا ہے
  4. الف عین

    بچپن کی ایک یاد----اپنی ڈائری سے (یوم اطفال کی مناسبت)

    یہ مثالیں بھی آدی باسیوں کی کہی جا سکتی ہیں، مگر یہی نہیں، کسی بھی علاقے کے آبائی باشندے آدی واسی کہلاتے ہیں ہندی میں، اسے اردوا کے آدی باسی بھی لکھنے لگے ورنہ درست لفظ ہا گا 'قبائلی' جو کسی علاقے کے ایک جنگلات میں بستے ہوں اور جہاں تعلیم و تہذیب کا گزر نہ ہو
  5. الف عین

    نفرتوں کی بات سے انکار ہونا چاہئے

    نفرتوں کی بات سے انکار ہونا چاہئے اب تو دل میں ہر کسی کے پیار ہونا چاہئے -----------. نفرتوں کی بات یا نفرت کی باتوں؟ باتوں کا انکار سے کیا مراد ہے؟ اب تو، یعنی پہلے نہیں تھا تو گوارا تھا؟ دیکھیے بھائی تین سوال اٹھ گئے ایک شعر میں! دندناتے گھومتے ہیں آج دشمن پیار کے چاہتوں کا ہر طرف اظہار ہونا...
  6. الف عین

    غزل برائے اصلاح :: اب جائیں ہم کہاں دلِ ویراں لیے ہوئے

    مطلع میں ایطا تو اب بھی ہے۔ شاید سمجھے نہیں۔ دوسرے قوافی راں، فاں، ساں ہیں عزل کے، لیکن مطلع، جو قوافی مقرر کرتا ہے، کے دونوں مصرعوں میں ماں ہے، اس لیے حرماں اور ساماں قوافی غلط ہیں ایک متبادل ذہن میں آیا ہے آنکھوں میں اشک، فکر پریشاں.... باقی درست ہے
  7. الف عین

    دل یہ کرتا ہے اجتناب کروں (اصلاح طلب)

    مزید یہ کہ مطلع میں اجتناب کس شے سے کیا جائے، یہ بتایا ہی نہیں گیا۔ واضح ہو جائے تو بہتر ہے اصلاح کے بعد دوسرا مصرع بحر سے خارج ہو گیا، پر کی جگہ پہ استعمال کرنے سے درست ہو جائے گا۔ یہ بھی غلط محسوس ہوتا ہے کہ نقاب کرنا محاورہ نہیں۔ احباب کیا کہتے ہیں، کیا حجاب یہاں بہتر ثابت ہو گا سید عاطف علی...
  8. الف عین

    غزل: اگرچہ آرزو لمبی بہت ہے

    اچھی غزل ہے ماشاء اللہ
  9. الف عین

    غزل برائے اصلاح :: اب جائیں ہم کہاں دلِ ویراں لیے ہوئے

    اچھی غزل کہتے ہو خورشید میاں، بہت کم اصلاح کی ضرورت ہوتی ہے درد اور یاس حسرت و حرماں لیے ہوئے رہتا ہوں اپنے ساتھ یہ ساماں لیے ہوئے ... قافیے کی غلطی ہے یعنی ایطا در آیا ہے .محض بہتری کے لئے، پہلے مصرع میں مزید یہ کہ دونوں جگہ اور' رکھو یا دونوں جگہ' و' ہم کاٹ لیں گے عمر فقیری میں لیکن جیتے...
  10. الف عین

    ملک ادب کے شہزادے-ایک نایاب ہندوستانی کتاب

    مگر برقی کتابوں کے لیے تو ہمیں ایک کتاب بھی اب تک فراہم نہیں ہوئی۔ امید ہے کہ کمپوز کر کے ہی شائع ہوئی ہوں گی، محض سکیننگ کر کے نہیں
  11. الف عین

    غزل برائے اصلاح : سوا تیرے مرے دل کا علاجِ غم نہیں ممکن

    سوا تیرے مرے دل کا علاجِ غم نہیں ممکن لگے یہ جی کسی شے میں نہ چین آئے کہیں تجھ بن ... سوا تیرے؟ کیا دل کے زخموں پر محبوب کو پکڑ کر مرہم کی طرح لگانے کا ارادہ ہے؟ سوچو اگر اس کو بدلا جا سکے دوسرے مصرعے میں 'لگے ہہ جی' اچھا نہیں لگتا۔ 'لگے دل ہی' کیا جا سکتا ہے یا 'نہ دل/جی لگتا ہے' سے شروع کر...
  12. الف عین

    نظم برائے اصلاح

    اب رواں ہو گئے اشعار آخری شعر کے دونوں متبادل اچھے ہیں، کچھ بھی رکھ سکتے ہو
  13. الف عین

    کسی کا چاند سا چہرہ خیالوں میں جو رہتا ہے--برائے اصلاح

    اب درست ہو گئی غزل۔ لیکن اس پر غور کریں کہ پہلی غیر اصلاح شدہ غزل میں کیا اغلاط تھیں! اور میں نے کیوں اصلاح دینے سے پہلے اسے خود دیکھنے کا مشورہ دیا تھا (جو افسوس کہ آپ تب بھی خود درست نہیں کر سکے۔
  14. الف عین

    مکمل قرآن سمجھ کر پڑھنا سیکھیے ۔۔۔ اعجاز عبید

    کتاب کے متن کے مراسلہ نمبر ایک اور تین کے درمیان کا مواد، جو شاید پوسٹ نہیں ہوسکا تھا: مکمل آیتیں/با معنی جملے/کلمات بِسْمِ اللَّہ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ شروع اللہ کے نام سے جو بہت مہربان اور رحیم ہے یہ آیت 114 بار دہرائی گئی ہے، اس کی بات کی ہی جا چکی ہے، لیکن اسی سے یہاں بھی ابتدا کرنا...
  15. الف عین

    کسی کا چاند سا چہرہ خیالوں میں جو رہتا ہے--برائے اصلاح

    پہلے دونوں اشعار درَست، تیسرے کا مفہوم لگتا ہے کہ زبردستی کا اضافہ ہے بسی دنیا دلوں میں ہے مگر کہتے ہیں مومن ہیں منافق کی نشانی ہے یہی قرآن کہتا ہے ------------ -اکثر اشعار میں فاعل کون ہے، یہ صرف آپ کے ذہن میں ہوتا ہے، بیان نہیں ہوتا، یہ بھی اسی کی مثال ہے بسی دنیا ہے ان کےدل میں، گو کہتے ہیں...
  16. الف عین

    جو بیٹے بیٹیوں کو اپنی غربت دے چکا میں : غزل برائے اصلاح

    درست ہیں اشعار انہیں تو پیار جب بھی تھی ضرورت دے چکا میں میں درست اوقاف ضرور لگاؤ انہیں تو پیار، جب بھی تھی ضرورت، دے چکا میں
  17. الف عین

    نظم برائے اصلاح

    لازم بچو ایفا کرنا اور لازم بچو وعدہ نبھاؤ کچھ ایسا لگتا ہے جیسے ظالم بچو کہا جا رہا ہے۔ یوں بھی 'لازم ہے کہ' کہا جائے، بچوں کی شاعری میں اس بات کا زیادہ ہی دھیان دینا ضروری ہے کہ بچوں کو سمجھنے میں مشکل نہ ہو بچو اس کو پورا کرنا پہلی جگہ اور آخر میں لازم ہے وعدے کو نبھاؤ کر دو باقی درست ہے
  18. الف عین

    خوشیاں کا درست تلفظ؟؟؟

    ش پر شد کے ساتھ کبھی سنا نہیں یہ لفظ خَش۔یا ہی تقطیع ہو گا
  19. الف عین

    غزل برائے اصلاح :مری حیات عجب اضطراب میں گزری

    درست ہو گئی ہے غزل، البتہ ایک ہی گھڑی ایسی ہو، یہ بات درست نہیں لگتی۔ جب تک اس شعر کے بدلے کوئی دوسرا شعر کہہ کر نہ دکھا لیں، اسے قبول کیا جا سکتا ہے۔ اس صورت میں بھی گھڑی تو ایسی بھی...کو گھڑی اک ایسی بھی.. کر لیں
  20. الف عین

    غزل برائے اصلاح :مری حیات عجب اضطراب میں گزری

    یہ میری عمر عجب اضطراب میں گزری جو پورا ہو نہ سکا ایسے خواب میں گزری . ۔درست، البتہ 'یہ' بھرتی کا لگتا ہے مری حیات عجب. ۔. یا مری حیات بھی کس. بہتر ہو گا رہے ہیں جن میں خفا آدمی سے یزداں سے کچھ ایسی گھڑیاں بھی ہم پر شباب میں گزری . ۔صیعے کء غلطی ہگ، گھڑیاں جمع ہے، اس کے ساتھ گَریں ہونا...
Top