بنے جن سے کبھی میرے لشکر
اب گزرتے ہیں مِرے سر اوپر
مطلع واضح نہیں، سر اوپر بھی اچھا محاورہ نہیں
یاں تک آنے میں بھٹک جاتی ہے
در بدر ہوتی قضا ہے گھر گھر
در بدر گھر گھر ہونا بھی عجیب ہے
کبھی دیکھی ہے فلک پر رونق
کبھی پائی ہے مری راہ گزر
کون؟ واضح نہیں
وقت نے کتنے ہی مجنوں مارے
کہ جنوں رہتا...