نتائج تلاش

  1. الف عین

    ہوتا جو میرے بس میں ، تجھ کو میں بھول جاتا ----برائے اصلاح

    بعد میں فرصت سے دیکھتا ہوں اسے
  2. الف عین

    مشاعرہ نسٹ اسلام آباد

    میں نے پہلے اسے مشاعرہ ٹیسٹ پڑھا! بعد میں معلوم ہوا کہ نسٹ ادارے کے نام کا مخفف ہے ورنہ میں یہ سوچ کر آیا تھا کہ مشاعروں بلکہ شاعروں کا ٹیسٹ میچ ہے، شاید ورلڈ کپ بھی کبھی منعقد کیا جا سکے!
  3. الف عین

    مجھے جان کہہ کر پکارا ہے اس نے----برائے اصلاح

    اب ٹھیک ہے، جلد بازی نہ کیا کریں بھائی، شاید غزل کے ساتھ سکون سے کچھ وقت گزاریں تو اصلاح کی ضرورت ہی نہ ہو
  4. الف عین

    غزل برائے اصلاح

    نہیں، قوافی کی کوئی غلطی نہیں ہے اس غزل میں ماشاء اللہ اصلاح کی ضرورت واقعی نہیں ہے
  5. الف عین

    مجھے جان کہہ کر پکارا ہے اس نے----برائے اصلاح

    اب غزل درست ہو گئی ہے۔ بس مقطع اب دو لخت ہو گیا ہے۔ اصل مصرع کا 'دکھ کو' کا تنافر دور کیا جا سکتا تھا، لیکن کس کا دکھ، یہ واضح نہیں تھا، اب بھی بدل دیں تو بہتر ہے
  6. الف عین

    برائے اصلاح : دکھائی دے

    مطلع اور آخری شعر کے پہلے مصرعے اب بھی غلط بحر میں ہیں، شاید میری بات واضح نہیں ہو سکی۔ میرے مشورے تو تھے لازم نہیں جو اچھا ہے، اچھا دکھائی دے ذرّہ دکھائی دینے لگے، وہ نظر ملے
  7. الف عین

    برائے اصلاح

    ہر طرف نور کی روشنی آ گئی؟ نور کے معنی ہی روشنی کے ہیں، مصرع بدل دو بعد میں دیکھا کہ راحل نے 'ہر طرف نور ہے، روشنی...' کا مشورہ دیا تھا۔ باقی نے ان کے مشورے مان ہی لیے ہیں، اس کو کیوں نہیں مانا گیا! باقی ٹھیک ہے
  8. الف عین

    کیا عجب سلسلہ رہا دل میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اصلاح طلب

    اچھی غزل ہے ا،صلاح کی ضرورت نہیں
  9. الف عین

    وفائیں ہار گئیں بے وفائی جیِت گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔ اصلاح طلب

    وفائیں ہار گئیں بے وفائی جیِت گئی جو زندگی تھی وہ ان کے غم میں بیِت گئی .. دوسرا مصرع وزن میں نہیں جو زندگی تھی بچی، ان کے.... ایک تجویز وہ کیسے بھول گئے ہیں مجھے تو حیرت ہے کسی کے دل سے یوں کیسےمگر وہ پیِت گئی ... قافیہ کچھ عجیب ضرور ہے، 'یوں کیسے مگر' میں روانی کی کمی ہے اس کی جگہ 'بھلا...
  10. الف عین

    سر کش مٹے کچھ ایسے کہ نابود ہو گئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اصلاح طلب

    ماشاء اللہ اچھی غزل ہے زنیرہ، اصلاح کی ضرورت نہیں
  11. الف عین

    برائے اصلاح : دکھائی دے

    میں تب کہوں گا دیکھ رہا ہوں میں آئینہ ۔۔۔یا پھر| میں تب کہوں گا دیکھ رہا ہوں میں آئینہ خامی بھی جبکہ نقش سے یکجا دکھائی دے ۔۔۔۔۔| جب عکس اور نقص کا ناتا دکھائی دے .. پہلے مصرع کا متبادل بھی وہی مصرع ہے! دوسرے مصرعے کا پہلا متبادل بہتر لگ رہا ہے چہرے پہ چہرہ رکھ کے یہ کیوں چاہتے ہیں آپ باقی ہر...
  12. الف عین

    برائے اصلاح : دکھائی دے

    اس بحر پر شاید قدرت کی کمی ہے۔ یہ دو ملتی جلتی بحریں ہیں۔ مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن/فاعلات ( دل سے تری نگاہ جگر تک اتر گئی) اور مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن ( ہی بس کہ ہر اک آن کے اشارے میں نشاں اور) راحل میاں نے بھی اس پر غور نہیں کیا۔ بدر القادری کا مجوزہ مصرع بھی دوسری بحر میں ہے جب کہ اس غزل کی...
  13. الف عین

    مرے دل کی راحت ہے نامِ مدینہ----برائے اصلاح

    ایک دو قوافی ایسے ہوں جن میں اضافت سے قافیہ بنایا گیا ہو تو انہیں صوتی قوافی کے طور پر قبول کیا جا سکتا ہے۔ حال ہی میں محفل میں ہی ایسا کلام پیش کیا گیا تھا۔ لیکن مکمل غزل میں ایسے قوافی ہوں، انہیں قبول کرنے میں مجھے تو تامل ہی ہو گا۔
  14. الف عین

    آسیب زدہ نظم

    آسیب کون... میرا مطلب شاعر کون ہے جس کی یہ نظم ہے؟
  15. الف عین

    غزل برائے اصلاح - بدلا جا رہا ہے

    ماشاء اللہ اب درست ہو گئی ہے غزل۔ بھائی سید عاطف علی کا بہت شکریہ۔ میں تو دل سے چاہتا ہوں کہ اصلاح سخن کی کوئی ذمہ داری قبول کر لے اور مجھے رخصت مل سکے لیکن عاطف بھائی بلانے پر ہی آتے ہیں یہاں!
  16. الف عین

    براے اصلاح

    اب درست لگ رہے ہیں دونوں اشعار
  17. الف عین

    نظم برائے اصلاح و راہنمائی

    ایک دو مصرعے پابند بحر ہو گئے ہیں جن کی ضرورت نہیں۔ اسے آزاد نثری نظم ہی چلنے دیں، اس لیے الفاظ کی ترتیب بھی نثر کی یا بول چال والی ہی رکھیں، جیسے انسانوں کے قاتل پابند قفس ہیں بجائے انسانوں کے قاتل ہیں پابند قفص میں نظم میں مقطع کہنے کی کوشش نہ کریں یعنی تخلص کی ضرورت نہیں
  18. الف عین

    برائے اصلاح

    بھئی اس غزل میں دو بحور خلط ملط ہو گئی ہیں فاعلاتن فُعِلاتن فعلن اور فاعلاتن مفاعلن فعلن شکیل کی غزل فاعلاتن مفاعلن فعلن میں ہے، اگر وہی رکھنا ہے تو مکمل غزل دھیان سے تقطیع کر کے اسی بحر میں باندھیں۔ شکیل قادری تھے، یہ آج ہی معلوم ہوا لیکن شاعری میں اس بات کی اہمیت نہیں کہ کون قادری ہے اور...
Top