کیا کیا نہ لوگ کھیلتے جاتے ہیںجان پر
اطفالِ شہر لائے ہیں آفت جہان پر
کیا کہنے جناب ، بہت شکریہ خدائے سخن کا کلام ہم تک پہنچانے کے لیے ، سدا خوش رہیں شناور صاحب
معشوق ہوں یا عاشقِ معشوق نما ہوں
معلوم نہیں مجھکو کہ میں کون ہوں کیا ہوں
ہوں شاہدِ تننزیہہ کے رخسارہ کا پردہ
یا خود ہی میں شاہد ہوں کہ پردہ میں چھپا ہوں
ہستی کو مری ہستیِ عالم نہ سمجھنا
ہوں ہست مگر ہستیِ عالم سے جدا ہوں
انداز ہیں سب عاشق و معشوق کے مجھ میں
سوزِ جگر و دل ہوں ۔...
صل اللہ علیک یاسیدی یارسول اللہ وعلی آلک و اصحابک یا نبی اللہ
صل اللہ علیک یاسیدی یارسول اللہ وعلی آلک و اصحابک یا نبی اللہ
صل اللہ علیک یاسیدی یارسول اللہ وعلی آلک و اصحابک یا نبی اللہ
دل بھر آئے تو سمندر نہیں دیکھے جاتے
عکس ، پانی میں اتر کر نہیں دیکھے جاتے
دیکھ اے سست روی ، ہم سے کنارا کر لے
ہر قدم ، راہ کے پتھر نہیں دیکھے جاتے
سرگرفتوں کے لئے گھر بھی قفس ہیں خالد
ہِمَّت اے خیرہ سرو! سر نہیں دیکھے جاتے
وا ہ واہ سبحآن اللہ ، کیا کہنے ہیں جناب ، بہت شکریہ نوید...
بہت چپ ہو شکایت چھوڑدی کیا ------- لیاقت علی عاصم
غزل
بہت چپ ہو شکایت چھوڑدی کیا!
رہ و رسم محبت چھوڑدی کیا
یہ کیا اندر ہی اندر بجھ رہے ہو
ہواؤں سے رقابت چھوڑدی کیا
مناتے پھر رہے ہو ہر کسی کو
خفا رہنے کی عادت چھوڑدی کیا
لیے بےٹھی ہیں آنکھیں آنسوؤں کو
ستاروں کی سیاحت چھوڑدی کیا...
غزل
جلتے سینے میں ابھی سوختنی ہے کیا کچھ
اے دلِ خاک شدہ راک بچھی ہے کیا کچھ
کاغذی رابطے سب پھاڑدیے پھینک دیے
بے دلی دیکھ ہوا لے کے چلی ہے کیا کچھ
مثلاً پائے حنا بستہ سے اُٹھتی ہوئی دھول
میری آنکھوں سے خزاں باندھ گئی ہے کیا کچھ
وہ بھی اُن سے جنھیں پژ مُردہ ہوئے عمر ہوئی
تو بھی اے...