السلام علیکم ,
نئی غزل اصلاح کے لیے آپ محترم اساتذہ اکرام کی خدمت میں پیش ہے۔
چاہ کر بھی تجھے کیونکر میں بھلا پاؤں گا
نقش ہے دل پہ ترا کیسے مٹا پاؤں گا ؟
اسی امید پہ گزری ہے یہ عمرِ رفتہ
تیرے دل میں بھی محبت کو جگا پاؤں گا
مخملی گیسو ترے نرگسی آنکھیں تیری
یہ ترے ناز و ادا کیسے بھلا پاؤں گا...