جہاں شریعت میں ایک غریب کو مفت انصاف مہیا کیا جاتا ہے وہیں اس کے برعکس ایک غریب اپنی جمع پونجی وکیل کے اخراجات کی مد میں صرف کر کے بالآخر انصاف سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔ اور پیسہ دار طبقہ انصاف خرید کر لے جاتا ہے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ انصاف میں اتنی دیری نہ کرو کہ مدعی اپنے مقدمے سے...