باب یازدہم : کرنل ہاتھی
دوبارہ آکے وہ لیٹے، ابھی کچھ رات باقی تھی
ابھی یہ رات جانے اور کیا کیا گُل کھِلائے گی
وہ آنکھیں بند کرکے سوچتے تھے پھر سے سو جائیں
تمنا تھی کہ میٹھی نیند کی وادی میں کھوجائیں
اچانک سارا جنگل گونج اُٹھا ایسی چنگھاڑوں سے
چلی آئیں جو ان کی سَمت ٹکرا کر پہاڑوں سے
بگھیرا...