باب دوازدہم:
بحث و تکرار
بہت کچھ سُن چکا تھا موگلی، اب اُس کی باری تھی
یہی سب سوچتے یہ رات اس نے بھی گزاری تھی
میں اس جنگل کو چھوڑوں گا تو کیسے جی سکوں گا میں
میں اب اک بھیڑیا ہوں، ساتھ ہی اُن کے مروں گا میں
چلو واپس چلیں، اُن بھائیوں کو میں منا لوں گا
انھی کے ساتھ ہی اِس زندگی کا میں مزا...