باب نہم :
سمجھ داری کی باتیں تھیں، یہی مشکل کا اِک حل تھا
ذرا سی دیر میں اس حل کا حامی سارا جنگل تھا
طباقی نے سُناجونہی کہ ان کا فیصلہ یہ تھا
وہ سر پر پیر رکھ کر تب وہاں سے بھاگ نکلا تھا
وہاں سے بھاگ کر وہ شیر کے ہی پاس آیا تھا
اور اُس کو ماجرا اُس رات کا پھر کہہ سنایا تھا
یہ سنتے ہی اُٹھا...