درست فرماتے ہیں جناب۔ اس وقت تک جتنا مواد جمع ہوسکا تھااستادِ محترم الف عین صاحب کو مہیا کردیا تھا۔ اب کہیں جاکر کچھ مواد اتنا ہوا کہ دوبارہ ان سے درخواست کی جاسکتی ہے نئی کتابوں کے لیے۔
اتنا خوبصورت کلام شیئر کرنے پر شکریہ قبول فرمائیے عندلیب صاحبہ!
اب جبکہ کامران غنی صبا بھائی بھی محفل میں موجود ہیں ، ان سے درخواست ہے کہ اپنا مزید کلام بھی عطا فرمائیں
مزہ آگیا استادِ محترم۔
دوسرا پیراگراف جس میں مفاعیلن کی تکرار ہے، کمال ہے۔ اس میں تو احساس ہی نہیں ہوا کہ ہم نظم نہیں نثر پڑھ رہے ہیں۔ جبکہ پہلے پیراگراف میں یہ احساس شدت سے ہوا کہ یہ نظم ہے جسے پیراگراف کی شکل میں لکھ دیا ہے۔یہ صرف ہمارا تاثر ہے۔
مزاح لکھنا بھی دل گردے کا کام ہے۔ اسی نظم پر موصول ایک تبصرہ ملاحظہ فرمائیے
"آخری مصرع اسلامی شعائر کے خلاف ہے۔ دل سے نہیں ،دماغ سے سوچ کے لکھیں، اگر زمین اسلامی ہو تو، تھینکس"
کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا
جواب آں غزل کالفظ یہاں صرف لفظ ریسپانس کا مفہوم ادا کرنے کے لیے برتا گیا تھا چلیں بے عزتی خراب ہونا ہی تھی شاید :)
دل چھوٹا نہ کیجیے۔ ہم مبتدی اپنی غلطیوں ہی سے سیکھتے ہیں۔ ہوجائے ایک غزل
زاہد آوازِ دوست بھائی! یہ کیا ہے؟o_O
ہم مبتدیوں کے لیے یہی بہتر ہے کہ ہم اس صنفِ سخن میں پنجہ آزمائی کریں جس کے قواعد و ضوابط ہمارے لیے زیادہ قابلِ فہم ہوں۔ ابھی وزن قافیہ اور ردیف ہی ہمارے لیے زیادہ بہتر ہوگا۔