سب کی جیت سے ان کی مراد win win solution ہوگی. یعنی کیک کو اس طرح کاٹا جائے کہ ہر شخص سمجھے کہ اسے سب سے بڑا حصہ ملا ہے. :)
سادے لفظوں میں یہ کہ سب فریقین بخوشی راضی نامہ پر تیار ہو جائیں.
سچی بات تو یہ ہے کہ ہمارے پاس کوئی باقاعدہ حوالہ نہیں ہے۔ یہ بات ایک تنقید کی کتاب میں پڑھی تھی جس کا نام تھا بت خانہ شکستم من اس کے ایک مضمون میں غالب کے مختلف اشعار پر بات کی گئی تھی۔ مزید یہ کہ آپ کے بلاگ پر پڑھی تھی۔ :) بیدل کا دیوان تو ہم نے دیکھا بھی نہیں ہے۔ :)
یہ بات ٹھیک ہے اس سلسلے...
باقی مسلم ممالک کا تو نہیں پتہ البتہ پاکستان میں تعلیم کاروبار بن گیا ہے۔ اگر آپ خرید سکتے ہیں تو خرید لیجے نہیں تو کوئی مسئلہ نہیں!
چونکہ آبادی کا ایک بڑا تناسب خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہا ہے سو بہت سوں کے لئے تعلیم کی خریداری ممکن ہی نہیں ہے۔
ہر شخص کو چاہیے کہ وہ اپنی پسند کے موضوعات کے دھاگے کھولے اور اس طرح کے موضوعات پر تبصرے کرے جیسا کہ شعری ذوق والے لوگ کیا کرتے ہیں اسی طرح دیے سے دیا جلتا ہے۔ :)
یہ شعر میر کا ہے اور اصلی ہے یہ تو کم و بیش سب ہی جانتے ہیں۔ :)
تاہم پروین نے بھی سرقہ نہیں کیا ہے بلکہ اس مصرعِ طرح میں غزل کہی ہے اور اچھی غزل کہی ہے گرہ پر البتہ اُنہوں نے زیادہ محنت نہیں کی اور کم و بیش وہی معنی پہنا دیے بقول آپ کے چربہ کر دیا۔
پروین نے میر کے شعر کے ساتھ وہی کیا جو غالب...