نتائج تلاش

  1. الف عین

    ایک کاوش

    اب درست ہو گئے یہ اشعار لیکن بو بکر پر میں صرف نظر کر گیا تھا جس کی طرف سید صاحب نے اشارہ کیا تھا
  2. الف عین

    تعارف اور تعارف ہمارا ہو بھی کیا

    نئی رکن ہیں نہ انجانی ہیں سیما علی اس لئے خوش آمدید کہنا بھی فروعات میں شامل ہی ہے۔ تعارف پر کچھ رائے ظاہر کی جائے، لیکن تعارف ہے کہاں؟ صرف یہ اطلاع ملی کہ رٹائرڈ ہیں یعنی پہلے ملازمت کرتی تھیں۔ اس سے زیادہ جو کم از کم مجھے معلوم ہے وہ یہ ہے: کراچی سے تعلق ہے بنک میں ملازم تھیں عمر ساٹھ کو پار...
  3. الف عین

    برائے اصلاح: آپ سے صرف سدا ہم نے محبت کی ہے

    وجہ کی جگہ سبب لایا جا سکتا ہے مذکورہ شعر میں
  4. الف عین

    نعتِ رسولِ مقبولؐ

    اب درست کر ہی دی ہے میرے مشورے کے مطابق!
  5. الف عین

    ہرہمسری سے شرک سے بالا ہے تیری ذات

    پہلے اس سے صرف نظر ہو گیا تھا ہر شے گدا ہے تیری کہ داتا ہے تیری ذات شے؟ یا شخص، کوئی عاقل ہی کچھ مانگ سکتا ہے نا، غیر عاقل نہیں، شے کو بدلو
  6. الف عین

    ی۔ ہ۔ و ۔۔ نئی لڑی نمبر 20

    دل نہیں چاہ رہا اشعار کی بیت بازی کا
  7. الف عین

    ا۔ب۔پ ۔۔۔۔۔ کھیل نمبر 62

    معلوم ہوتا ہے کہ سیما خود سے ہی ٹکرا گئیں!
  8. الف عین

    برائے اصلاح

    امتیاز تو بہت جونئر ہیں، ان سے ملاقات اس لئے ہوئی کہ علی گڑھ میں ہمارے پچھلے گھر کے پڑوسی تھے! ہر بار علی گڑھ جاتا ہوں تو امتیاز سے بھی ملاقات ہوتی ہے، بلکہ ایک آدھ نماز وہاں سید کالونی کی مسجد میں ہی پڑھتا ہوں اور پرانے احباب سے مل لیتا ہوں۔ شمیم صاحب سے واقفیت نہیں اب دوسری آنکھ کی بھی سرجری...
  9. الف عین

    برائے اصلاح

    اب درست ہو گئی ہے ، امید ہے کہ کچھ سیکھا ہو گا اور آئندہ ایسی اغلاط نہیں کرو گی
  10. الف عین

    برائے اصلاح: خُدا کسی دن تو بھیڑیوں کے نقاب سارے اتار دے گا

    یہ تم کو عجیب و غریب زمینیں چننے کا کیا شوق ہے بھئی! خُدا کسی دن تو بھیڑیوں کے نقاب سارے اتار دے گا جو پی گئے میرا خون،ان پر عذاب سارے اتار دے گا .. مطلع بدلو، یہ مطلب بھی نکلتا ہے کہ خدا نے ہی بھیڑیوں کے نقاب پہن رکھے ہیں! کبھی تو اتنا خدا کرے گا کہ میرے سر سے بُری بلائیں یہ خان،سردار،چودھری...
  11. الف عین

    نعتِ رسولِ مقبولؐ

    کبھی پہنچوں ترے در پر بجز اس کے میں کیا مانگوں کہ نورِ گنبدِ خضرا سے آنکھوں کی ضیا مانگوں .. پہلے مصرع میں 'تو' کی کمی لگ رہی ہے .... تو کیا اس کے سوا مانگوں کیا جا سکتا ہے مدینہ میری سوچوں پر بڑی شدت سے چھایا ہے فضائے نور مل جائے نہ کچھ اس کے سوا مانگوں ... یہاں 'بجز اس کے میں کیا' بہتر ہو...
  12. الف عین

    برائے اصلاح

    کہاں جا رہے ہو! بڑھے سوئے پستی دو ٹکڑے کیوں، پوری بات یوں کہو بڑھے جا رہے ہو کہاں سوئے پستی مقامات اوج و ثریا کو چھوڑا بلندی سے رخ اپنا پستی میں موڑا .. رخ پستی میں نہیں موڑا جاتا 'ہستی کی طرف' موڑا جاتا ہے رہے نام کے اب ہیں ہم بس مسلماں نہ اسلاف سا اب رہا ہم میں ایماں .. پہلا مصرع روانی...
  13. الف عین

    ہرہمسری سے شرک سے بالا ہے تیری ذات

    مشکل کشا ہے تُو مرا حاجت روا ہے تُو مجھے اب بھی روانی کی کمی لگ رہی ہے شاید دوسری 'ہے' کو 'بھی' سے بدلنے سے بہتر ہو جائے یعنی 'روا بھی تو' کوئی ہو سرکشی پہ یا پھر بندگی کرے یہ بھی روانی اچھی نہیں، شاید اسمیہ جملہ رواں ہو سرکش ہو کوئی یا ترا بندہ ہو کوئی نیک باقی دوسرے شعر میں بھی آخر کے لفظ...
  14. الف عین

    ہرہمسری سے شرک سے بالا ہے تیری ذات

    منبع بھی اردو والے کھمبا کے طور پر ہی تلفظ کرتے ہیں، اسی لئے اسے صوتی قافیہ کے طور پر قبول کر لیا تھا۔
  15. الف عین

    ہرہمسری سے شرک سے بالا ہے تیری ذات

    تقابل قوافی کہا جا سکتا ہے، اگرچہ بدلا جا سکے تو اس شائبے سے بھی پاک ہو جاتا ہے شعر، ورنہ چل بھی سکتا ہے۔ میں نے اسی لیے اس پر گرفت نہیں کی تھی
  16. الف عین

    برائے اصلاح: اٹھارہ سال کے ہیں ہم سفید بال ہوئے

    بس ایک لمحہ گزارا تھا وصل کا ہم نے پھر اس کے بعد ہر اک روز وشب و بال ہوئے اس شعر کو رکھنا ضروری ہے؟ وبال ہوئے جمع کے صیغے میں ہے، اس لئے اس سے پہلے 'ہر اک' غلط ہے، 'سبھی' کا محل ہے ہمارے یونہی نہیں شعر لازوال ہوئے شاید ہمارے شعر کہاں یونہی شعر لازوال ہوئے شاید بہتر ہے روانی میں باقی درست ہیں اشعار
  17. الف عین

    برائے اصلاح

    کس سال؟ ان کا اسم گرامی؟ شاید میں واقف ہوں اگرچہ مالیگاؤں سے کسی کے تعلق کا مجھے علم نہیں
  18. الف عین

    برائے اصلاح: اٹھارہ سال کے ہیں ہم سفید بال ہوئے

    کسی کے ہجر میں اتنے خراب حال ہوئے اٹھارہ سال کے ہیں ہم، سفید بال ہوئے ... درست ہم اپنی ذات کو پہچان اب نہیں پاتے کسی کی چاہ میں اس طرح پائمال ہوئے ... پہلے مصرع میں 'اب' بھرتی لگتا ہے، 'ہی' کر دینے سے بے ساختگی محسوس ہوتی ہے انہوں نے زخم دئیے جن پہ اعتبار کیا ہماری زندگی میں حادثے کمال ہوئے...
  19. الف عین

    اپنا بھی اس جہاں میں کوئی تو یار ہوتا----برائے اصلاح

    پہلے اپنی صحت کی بابت تو خبریں سناتے! فکر تو اس کی ہے۔ شاعری تو ہوتی رہے گی! اپنا بھی اس جہاں میں کوئی تو یار ہوتا ہم کو بھی پیار ملتا ہم کو بھی پیار ہوتا ------------- یار اور پیار میں ایطا کا سقم ہے میری طرح جو اس کے بھی دل میں پیار ہوتا اس کو مری وفا پر تب اعتبار ہوتا ------------ 'بھی'...
  20. الف عین

    ہرہمسری سے شرک سے بالا ہے تیری ذات

    صوتی قوافی خوب استعمال ہوئے ہیں! مشکل کشا بھی تُوہے کہ حاجت روا بھی تُو 'کہ' لانے سے مفہوم یہ بنتا ہے کہ حاجت روا ہونے کے باعث تو مشکل کشا بن گیا ہے۔ الفاظ بدل کر 'کہ' دور کرو کوئی ہو سرکشی پہ یا پھر بندگی پہ ہو بندگی پہ ہونا محاورہ نہیں، اس کے بھی الفاظ بدل کر پھر کہو باقی فی الحال تو درست لگ...
Top