خطا ہماری فقط یہی تھی کہ وصل جاناں کے خواب دیکھے
مگر جدائی کی حدتوں میں سداسلگتے گلاب دیکھے
... دو لخت لگ رہا ہے مطلع
رقابتوں کا سفر نجانے محیط تھا کتنی مدتوں پر
یہ عمر گذری صعوبتوں میں قدم قدم پر عذاب دیکھے
.... دو لختی اس میں بھی لگتی ہے، رقابتوں کا ہی ذکر کءوں؟
وہ جس کے اوصاف لکھتے لکھتے...