غزل
آنکھوں میں نمی ، ہونٹوں پہ مسکان الل ٹپ
کرتا ہے سبھی حرکتیں انسان الل ٹپ
آتے ہیں مجھے دیکھ، اُسے یاد قواعد
سب کو ہی جگہ دیتا ہے دربان الل ٹپ
یاں مرتی رہی بھوک سے مخلوق مسلسل
اور واں ہیں بھرے نیلم و مرجان الل ٹپ
اِک اس ہی غزل پہ نہیں موقوف یہ حرکت!
لکھا ہے یونہی اُن نے یہ دیوان...