ضروری تھاُایک ملی نغمہ
گھر کی خاطر سو دُکھ جھیلیں، گھر تو آخر اپنا ہے
بال بکھیرے اُتری برکھا، رُوپ لُٹاتا چاند
کیا پل بھر کو اُٹھی آندھی، تارے پڑ گئے ماند
رات کٹھن یا دن ہو بوجھل، ہنستے گاتے چلنا ہے
گھر کی خاطر سو دُکھ جھیلیں گھر تو آخر اپنا ہے
لہروں لہروں اُترا سُورج، بستی بستی رُوپ
جاگ اُٹھے...