راحل سے متفق ہوں اور بھائی عاطف سے بھی
کچھ مزید....
مسکراتے ہوئے سُرخ ہونٹوں تلے
جگمگائے ترے موتیوں کی دمک
جب میں تھک ہار کے پاس آیا ترے
ہار بانہوں کے ڈالے گلے میں مرے
اپنے ہاتھوں مرے بال بکھرا دیے
گدگدائے تری چوڑیوں کی کھنک
مسکراتے ہوئےسرخ ہونٹوں تلے۔۔۔۔۔
.. اس بند میں پہلے کہانی بیان کی...