جب بھی ابرِ بہار اٹھتا ہے
دل میں اک انتشار اٹھتا ہے
.. درست
دائم آباد یہ رہے گلشن
اب یہاں سے یہ خار اٹھتا ہے
... ٹھیک ہے
آ گئی ہو جوں روحِ منصوری
یوں قدم سوئے دار اٹھتا ہے
... روانی متاثر ہے پہلے مصرع کی
آ گئی جیسے روحِ....
بہتر ہے
نقش بھی اس کے مٹنے لگتے ہیں
جو بھی پہلو سے یار، اٹھتا ہے
...