نتائج تلاش

  1. الف عین

    ی۔ ہ۔ و ۔۔ نئی لڑی نمبر 20

    'عام طور پر نہیں، میں تو خاص طور پر بھی ناشتے میں نہاری پائے کھانا پسند نہیں کرتا، میرے لئے یہ 'کھانا'ہےجو کھانے کے وقت ہی کھانا چاہیے ۔ ناشتے میں بس اڈلی دوسا یا آملیٹ چلتا ہے، اور کوئی نمکین سالن نہیں
  2. الف عین

    غزل برائے اصلاح : وہ بے حد شرمیلا ہے

    کسی بھی جگہ ایک فعلن کو فَعِ لن اور کسی بھی جگہ دو متصل فعلن فعلن کو فعل فعولن کرنے کی اجازت ہے اس بحرمیں
  3. الف عین

    غزل برائے اصلاح : وہ بے حد شرمیلا ہے

    واقعی پہلواں بھی یہاں درست نہیں ہوتا، میں بھی غلط تلفظ کر گیا، درست تلفظ میں 'ہ' ساکن ہے، ناسخ کا شعر یے وہ پہلوانِ عشق ہوں ناسخ کہ بعد مرگ برسوں مرے مزار پہ مگدرگھما کیے
  4. الف عین

    جب بھی ابرِ بہار اٹھتا ہے۔ برائے اصلاح

    مجھے تو کوئی قافیہ فٹ ہوتا محسوس نہیں ہو رہا عشق اگرچہ... بہتر اور درست ہے، دوسرا متبادل تو بحر سے خارج ہی ہے ایک اور متبادل میری طرف سے عشق گو فتنہ خیزہے لیکن
  5. الف عین

    برائے اصلاح: ہمیں کہا، نہ اُسے کوئی پی پلا کے ملے

    ہمیں کہا، نہ اُسے کوئی پی پلا کے ملے جب اُس کو خود ملے واعظ تو لڑکھڑا کے ملے ... خیال عجیب ہے، واعظ تو مطلق شراب نہ پینے کا کہے گا، اور عشق بازی سے باز آنے کا بھی، یہ بعید ہے کہ وہ یہ شرط رکھے کہ مھبوب سے ملو ضرور مگر سوبر حالت میں! اسے کہو کہ مجھے بھی تو مسکرا کے ملے رقیب کو جو ہمیشہ ہی...
  6. الف عین

    جب بھی ابرِ بہار اٹھتا ہے۔ برائے اصلاح

    راہوار سے گھوڑا مراد لیا جاتا ہے، جو یہاں درست نہیں باقی اشعار اب درست ہو گئے ہیں
  7. الف عین

    غزل برائے اصلاح : وہ بے حد شرمیلا ہے

    درست ہیں اشعار، سادہ الفاظ میں اچھی غزل، بس اسے دیکھو اصلی بلوان وہ ہے جسے غصہ پینا آتا ہے بلوان وزن میں نہیں آتا، یہ ہندی لفظ اردو میں نا مانوس بھی ہے، اور اسے غنہ بھی نہیں کیا جا سکتا پہلواں استعمال کیا جا سکتا ہے کہ ں کے ساتھ استعمال ہو سکتا ہے اور اس طرح وزن میں آتا ہے
  8. الف عین

    نیا سال ( کفیل آزر امروہی)

    یہ ہمارے فیض احمد فیض نہیں، کوئی اور فیض صاحب کی نظم ہے کفیل آزر نے تو کبھی اپنے آپ کو امروہی نہیں لکھا!
  9. الف عین

    سہ ماہی سمت، شمارہ 53، جنوری تا مارچ 2022ء کا اجراء

    مفت برقی کتابیں میں یہ شمارہ https://muftkutub.com/2022/01/01/%d8%b3%db%81-%d9%85%d8%a7%db%81%db%8c-%d8%b3%d9%85%d8%aa-%d8%8c-%d8%b4%d9%85%d8%a7%d8%b1%db%81-%d9%a5%d9%a3-%d8%ac%d9%86%d9%88%d8%b1%db%8c-%d8%aa%d8%a7-%d9%85%d8%a7%d8%b1%da%86-%d9%a2%d9%a0%d9%a2/
  10. الف عین

    سہ ماہی سمت، شمارہ 53، جنوری تا مارچ 2022ء کا اجراء

    اشرف علی جاسمن محمد حفیظ الرحمٰن محمد شعیب
  11. الف عین

    سہ ماہی سمت، شمارہ 53، جنوری تا مارچ 2022ء کا اجراء

    عزیزان گرامی تسلیمات نیا سال مبارک نئے سال کے پہلے شمارے کے ساتھ حاضرِ خدمت ہوں۔ http://samt.bazmeurdu.net/magazine-%d8%b3%d9%8e%d9%85%d8%aa-%d8%a2%d9%86-%d9%84%d8%a7%d8%a6%d9%86-%d8%a7%d8%af%d8%a8%db%8c-%d8%ac%d8%b1%db%8c%d8%af%db%81/ اس شمارے کے مشمولات حسب ذیل ہیں۔ عقیدت کے تحت الیاس بابر...
  12. الف عین

    اُن کی صورت گُلاب جیسی ہے غزل نمبر 107 شاعر امین شارؔق

    اُن کی صورت گُلاب جیسی ہے یا رُخِ ماہتاب جیسی ہے .. ٹھیک آنکھ کیسے ملے ان آنکھوں سے؟ وہ نظر آفتاب جیسی ہے .. درست اتنی مخمور ہے نگاہِ صنم کہ نشے میں شراب جیسی ہے ... کہ بھی محض ک تقطیع ہونا چاہیے، جب کہ نشّہ درست تلفظ ہے یعنی فعلن کے وزن پر اس کی مستی شراب... ہو سکتا ہے ایسی عزت ہے ان کی دل...
  13. الف عین

    برائے اصلاح: حل ہو سکا ہم سے نہ اب تک مسئلہ نور و بشر

    ہم ہیں کہ لیکن ضد میں ہیں اونٹوں پہ ہو اپنا سفر .. یہ بہتر ہے، دوسرا متبادل 'ہیں' کی کمی کی وجہ سے قبول نہیں کیا جا سکتا مسئلہ نور و بشر میں مسئلہ، نور اور بشر تین الفاظ کاعطف لگتا ہے، اور یہ تعلق بھی واضح نہیں۔ "مسئلہ، نور اور بشر" لکھا جائے اگر یہ بے معنی مطلب ہی نکالنا ہو۔ نور و بشر "کا"...
  14. الف عین

    جو اپنی خودی نہ جان سکے غزل نمبر 106 شاعر امین شارؔق

    نہ ہی استعمال کرو مگر اسے ن تقطیع کرو۔ نہ کو نا کی طرح استعمال نہ کیا جائے، بس یہی کہنا تھا تین اشعار میں درمیانی اب بھی درست نہیں، روح کی واؤ کا اسقاط نہیں ہو سکتا، رُح تلفظ ہو رہا ہے
  15. الف عین

    جب بھی ابرِ بہار اٹھتا ہے۔ برائے اصلاح

    جب بھی ابرِ بہار اٹھتا ہے دل میں اک انتشار اٹھتا ہے .. درست دائم آباد یہ رہے گلشن اب یہاں سے یہ خار اٹھتا ہے ... ٹھیک ہے آ گئی ہو جوں روحِ منصوری یوں قدم سوئے دار اٹھتا ہے ... روانی متاثر ہے پہلے مصرع کی آ گئی جیسے روحِ.... بہتر ہے نقش بھی اس کے مٹنے لگتے ہیں جو بھی پہلو سے یار، اٹھتا ہے ...
  16. الف عین

    جب بھی ابرِ بہار اٹھتا ہے۔ برائے اصلاح

    واحد پاؤں بھی قابلِ قبول ہے
  17. الف عین

    برائے اصلاح: حل ہو سکا ہم سے نہ اب تک مسئلہ نور و بشر

    دنیا زمیں سے ہے گئی کب کی خلاؤں میں اتر پر ہم ہیں اونٹوں پر ہی کرنا چاہتے آگے سفر یا پر ہم بضد ہیں، ہم رکھیں گے جاری اونٹوں پر سفر ...'ہے گئی' مجہول ہے، 'پر' بمعنی "مگر" بھی قابلِ قبول نہیں، زمیں سے خلا میں اترنا بھی عجیب لگتا ہے دوسرا مصرع بھی یوں بہتر ہو گا ہم ہیں کہ لیکن ضد میں ہیں اونٹوں پہ...
  18. الف عین

    برائے اصلاح ۔ اب جو لے کر پگار اٹھتا ہے

    درست ہے روفی غزل، نئے اشعار بھی اچھے اور درست ہیں
Top