غزل
(محسن نقوی)
وفا میں اب یہ ہنر اختیار کر نا ہے
وہ سچ کہے نہ کہے ، اعتبار کرنا ہے
یہ تجھ کو جاگتے رہنے کا شوق کب سے ہوا
مجھے تو خیر ترا انتظار کرنا ہے
ہوا کی زد میں جلانے ہیں آنسووں کے چراغ
کبھی یہ جشن سرِ راہ گزار کرنا ہے
مثالِ شاخِ برہنہ ، خزاں کی رت میں کبھی
خود اپنے جسم کو بے برگ...
غزل
از ڈاکٹر جاوید جمیل
نہ ملا کبھی کسی سے اسے دیوتا سمجھ کر
بھلا کیسے پوجتا پھر میں اسے خدا سمجھ کر
میں یہ چاہتا ہوں مجھ سے وہ ملے تو دوست بن کے
نہ بڑا سمجھ کے خود کو، نہ مجھے بڑا سمجھ کر
کوئی انکو یہ بتا دے مرے منہ میں بھی زباں ہے
وہ ستم کریں گے کب تک مجھے بے نوا سمجھ کر
کئے فیصلے ہمیشہ...