غزل
ڈاکٹر جاوید جمیل
چپ چاپ کر کے کام وہ بزدل کہاں گیا
جذباتِ التفات کا قاتل کہاں گیا
آتے ہی جس نے شمع بجھادی بلا سبب
وہ نامراد دشمنِ محفل کہاں گیا
تم ہی تلاش کرکے بتا دو کچھ اسکا حال
ہم کو تو یہ پتہ ہی نہیں دل کہاں گیا
ہم تو مقابلے کو بھنور سے نکل پڑے
یہ تم خیال رکھنا کہ ساحل کہاں گیا
پیدا...
یہ کافر ہے
(از: شکیل جعفری)
جو ہم کہتے ہیں یہ بھی کیوں نہیں کہتا، یہ کافر ہے
ہمارا جبر یہ ہنس کر نہیں سہتا، یہ کافر ہے
یہ انساں کو مذاہب سے پرکھنے کا مخالف ہے
یہ نفرت کے قبیلوں میں نہیں رہتا، یہ کافرہے
بہت بے شرم ہے یہ ماں جو مزدوری کو نکلی ہے
یہ بچہ بھوک اک دن کی نہیں سہتا، یہ کافر ہے
یہ...