قچھ خاس نہیں جناب، مگرعاپ قیوں پریشان حیں۔ ؟
ما ہر چہ خواندہ ایم فراموش کردہ ایم
الا حدیث یار کہ تکرار می کنم
((ہم نے جو پڑھا ہے بھلا دیا ہے۔ سوائے یار کی باتوں کے جن کا ہم بار بار ذکر کرتے ہیں))
ایک منظوم انشائیہ ، اسرارالحق مجاز کے حوالے سے ۔ ’’ ناطقہ‘‘ سے
’’ پرسش ‘‘
تھے مجاز ایک شام آوارہ
ساتھ میں ان کے کوئی دوست بھی تھا
دیکھ کر راستے میں اک مسجد
جس کے دروازے پر لکھا تھا شعر
’’ روزِ محشر کہ جاں گداز بود
اولیں پرسشِ نماز بود ‘‘
رک کہ کہنے لگا مجاز کا دوست
شعر جو یہ لکھا ہوا ہے...