اچھا تو سمپل کی بورڈ ہی ہے، لیکن میں مجبوری میں سوئفٹ کی استعمال کرتا ہوں کہ اس کی لفظیات میں میری لفظیات کا اتنا شمول ہو گیا ہے کہ کچھ ہی حروف ٹائپ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے
مطلع کا دوسرا متبادل بہتر ہے
اگر اتنا ہی خائف.... والا شعر بہتر ہے
یہ شکل بہتر ہے
اسے ملنا نہ تھا، چاہے بہاتا.....
یہ شکل بہتر ہے
لکھا دیوار پر تھا یہ کہ، ہوں گا عشق میں ناکام
آخری شعر یوں درست ہو گا
ابھی جس کے دیئے پچھلے مرے زخموں کو بھرنا تھا
باقی اشعار درست لگ رہے ہیں، محمّد احسن...
واضح نہیں، کہاں سے کس کے نکل جانے کا؟
ترس، ت اور ر پر زبر ہوتا ہے، ر پر جزم نہیں، مفہوم بھی واضح نہیں
ہمیشہ منتظر رہنا والا ٹکڑا جملہ معترضہ لگتا ہے، اس کی جگہ کچھ اور کہو، جیسے
تو ممکن ہے کہ ایسا ہو
تمہارا ڈوبنے والا؟ سے کیا مطلب ہے؟
عادل قافیہ غلط استعمال ہوا ہے
سدا کا استعمال غلط ہے،...
مطلع میں بے تاب، بتاب تقطیع ہو رہا ہے
ے کوزیر کی طرح مختصر نہیں کیا جاسکتا فارسی عربی الفاظ میں
حُسنِ جاناں کی دِید کافی ہے
درشنِ ماہتاب کون کرے؟
.. درشن ماہتاب بھی درست نہیں، درشن ہندی ہے، فارسی کی اضافت غلط ہے
رفتہ رفتہ ہی عِشق ہوتا ہے
عاشقی میں شتاب کون کرے؟
... شتاب نہیں، شتابی کہنا تھا...
احسن میاں نے بھی میرے اوپر کے پیغام کے بعد، لیکن جو پوسٹ نہیں ہو سکا، کچھ مشترک باتیں لکھی تھیں.۔
مطلع میں خواب بھی کا تنافر تو دور ہو سکتا ہے
یہ میرا سپنا بھی بکھرنا تھا
لیکن بھی بکھرنا میں بھی کچھ ہلکا سا تنافر ضرور ہے
لیکن "مجھے بانہوں میں بھرنا تھا" کی وضاحت ضروری ہے، ورنہ دشمن کو اپنی...
جسے بانہوں میں بھرنا تھا.... سے یہ پتہ نہیں چلتا کہ شاعر کو اپنی بانہوں میں بھرنے کی خواہش تھی! کچھ الفاظ تبدیل کر کے واضح کرنے کی کوشش کرو
فقط اور بس دونوں ایک ساتھ ضروری نہیں
میں سمجھا تھا مجھے بس چھوڑ جانے کی دھمکی ہے
نہیں/یہ کب معلوم تھا ظالم کو....
ممکن ہے
درست
لٹک جاتا والا فقرہ مضحکہ...
دلی کی زبان بھی اب بگڑتی جا رہی ہے ۔ ویسے یہ شین قاف کی اغلاط ہندی بیلٹ والے زیادہ تر ہندو حضرات کرتے ہیں، یعنی یو پی، بہار، دہلی، مدھیہ پردیش، بہار کے لوگ!