سر تا بقدم وہ ہمہ وحدت ہمہ اسلام
جبریل نے بھی صلّ علی پڑھ کے لیا نام
وہ شانِ خلیلی تھی کہ بت لرزہ بر اندام
کعبے نے جسے دیکھ کے خود باندھا تھا احرام
اُس ذاتِ پاک میں اک نور کا عالم نظر آیا
دیکھا اُسے قرآن مجسم نظر آیا
تلوار کی تعریف بیاں ہو نہیں سکتی
تیز، اتنی کبھی تابِ زباں ہو نہیں سکتی
یہ برق کی مانند رواں ہو نہیں سکتی
ارزاں کبھی یہ جنسِ گراں ہو نہیں سکتی
محصورِ بیاں شعلہ بےباک کہاں ہے
مثل اس کا زمانے میں تہ خاک کہاں ہے
وہ صابر و صادق وہ امیں نورِ مجسم
قطرات عرق جس کے تھے انوار کی شبنم
والّیل قسم کھاتی تھی وہ گیسوئے پُرخم
والشمس فدا دیکھ کے رخسار کا عالم
خود رہگزرِ پا ہو یہ جنّت کی تمنّا
طوبٰی کو رہی سایہ قامت کی تمنّا
وہ سرور و سالار رسولانِ زمانہ
ہر ایک نفس جس کا تھا وحدت کا ترانہ
مجموعہ انوارِ خدا جس کا گھرانہ
سینے میں تھا اسرارِ الٰہی کا خزانہ
کس کے لیے یہ منصبِ عالی نسبی تھا
واللہ وہی ہاشمی و مطلبی تھا
تلوار تھی یا جلوہ ناراضی معبود
نابود ہوئی سامنے جو فوج تھی موجود
اک راہ اجل کے سوا ہر راہ تھی مسدود
تلوار کا پھل بن گیا تھا شعلہ بے دود
تھا بند جو مدت سے وہ دَر کھول دیا تھا
تلوار نے خود بابِ سقر کھول دیا تھا