گھوڑے کی وہ چھل بل وہ ترنگیں وہ طرارے
خود رُک گئی تھی موجِ ہوا شرم کے مارے
ٹاپوں سے اڑاتا ہوا میداں میں شرارے
گَرد اس کی تجلی سے ہوئے چاند ستارے
گرنے میں سر فوجِ عدو عار نہیں ہے
اک برقِ سُبک رو ہے یہ رہوار نہیں ہے
گھر بار کو چھوڑا، در و دیوار کو چھوڑا
صدیوں کے بنائے ہوئے آثار کو چھوڑا
جو پیار تھا اُس شہر سے اُس پیار کو چھوڑا
پتھر کیا دل، کوچہ دلدار کو چھوڑا
اصنامِ دل آرام کے محور سے نکل آئے
قرآن حمائل کیا اور گھر سے نکل آئے
لاشے جو گرے فوج کے وہ ہو گئے پامال
مٹی میں ملی سب ہوسِ عزت و اقبال
تھا حال بُرا فوج کا افسر ہوئے بے حال
توبہ کی بھی مہلت نہیں پائے تھے بد اعمال
گھوڑا نہیں پھرتا تھا وہ پھیرا تھا اجل کا
اعدا کی نگاہوں میں اندھیرا تھا اجل کا
کیا کہیے کہ کیوں دشت میں گھر چھوڑ کے نکلے
ہر عشرت و آرام سے منہ موڑ کے نکلے
اپنے در و دیوار سے سر پھوڑ کے نکلے
صدیوں کے جو رشتے تھے انہیں توڑ کے نکلے
یہ بات نہیں ہے کہ ہمیں جان کا ڈر تھا
قرآن کا پاس تو ایمان کا ڈر تھا
اُس شہر میں تھے گورِ غریباں بھی منّور
مدفون تھے جس میں اَدب و علم کے جوہر
جانباز و دلیر اور شجاعانِ دلاور
آرام سے اُس خاک میں سوتے ہیں برابر
قبریں بھی عزیزوں کی مزاراب وجد بھی
محبوبوں کے مدفن بھی رفیقوں کی لحد بھی