متفق بلال بھائی
ذوالقرنین بھائی، ایک تحریر نظر سے گزری تھی جو اسلامی تعلیمات کے تحت پیش کی گئی ہے اور شاید مسلمانوں کا ایمان تازہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے اپنے تئیں۔
اور میں بھلا کب سے معلمہ ہو گئی :)
کس طرح بسر ہوتےتھے ایّام جوانی
لکھیے تو فسانہ ہے جو کہیے تو کہانی
رفتار حسینوں کی تھی جمنا کی روانی
خود بادہ صفت اپنی صراحی کا تھا پانی
وہ دور نظر آتا ہے اب خواب کی صورت
جب پانی بھی پیتے تھے مئے ناب کی صورت
بجلی کی طرح کوند کے جھپٹا سوئے اشرار
ناری جو کوئی سامنے آیا ہوا فی النار
بے ہوش ہوئے اس کی روش دیکھ کے بدکار
پل بھر میں نکل جاتا تھا اس پار سے اس پار
پُھرتی جو قیامت تھی تو چال اس کی عجب تھی
تاریک دلوں کے لیے اک برق غضب تھی
رہوارِ حسینی جو سحر ہی سے تھا تیار
جب اس کی طرف بڑھنے لگے سیّد ابرار
سر اپنا سلامی کو جھکانے لگا رہوار
یوں اپنی وفاداری کا کرنے لگا اظہار
جلوہ کیا خورشید امامت نے جو زیں پر
پھر پاؤں فرس کے نہیں ٹکتے تھے زمیں پر
وہ میر تقی میر کا سینچا ہوا گلشن
جو غالب مغفور کا تھا مولد و مسکن
اشعار کا گہوارہ ، غزل گوئی کا مامن
حکمت کا جو سرمایہ تھا صناعی کا مخزن
جس شہر کے ذرّات ستاروں سے بڑے تھے
جو راہ میں کنکر تھے وہ موتی سے جڑے تھے
جس شہر میں تھی اکبرِ اعظم کی جلالت
تھی شرق سے تا غرب کبھی کبھی جس کی حکومت
عرفی و نظیری نے جہاں پائی تھی عزت
ہے دفن جہاں شاہِ جہاں بندہ الفت
اک نقش حسیں کھینچ کے عالم کی جبیں پر
رکھا ہے محبت نے جہاں تاج زمیں پر
جب اور زیادہ ہوا غُل اہلِ ستم کا
پھر نورِ جبیں ، شاہ کا کچھ اور بھی چمکا
اب غیظ بڑھا سبطِ شہنشاہِ اُمم کا
دم سینے میں بل کھانے لگا تیغ دودم کا
رخصت جو حرم سے ہوئے سلطانِ امامت
طالع ہوا پھر نیّرِ تابانِ امامت
کھولی تھی جہاں آنکھ وہ گھر ڈھونڈ رہا ہوں
جو اپنے تھے وہ بام وہ در ڈھونڈ رہا ہوں
جو چُھٹ گئی وہ راہ گزر ڈھونڈ رہا ہوں
امکاں نہیں ملنے کا مگر ڈھونڈ رہا ہوں
تبدیلی حالات پہ دل زیر و زبر ہے
جو اپنا تھا کل تک وہی اب غیر کا گھر ہے
معلوم تھا نکلی تھی مدینے سے میں جس دم
سہنے ہیں ستم لاکھوں اٹھانے ہیں بہت غم
کس صبر سے سنتے ہیں یہ باتیں شہ عالم
چاہیں تو ابھی نظم زمانہ کریں برہم
اصلاح جو مقصود ہے اب اہل زمیں کی
یہ روشنی لائے ہیں یہاں مشعل دیں کی
وہ کوچہ و بازار، وہ گلیاں، وہ فضائیں
چھوٹوں کے سلام اور بزرگوں کی دعائیں
وہ دھوپ کی شدت کبھی وہ سرد ہوائیں
وہ آندھیاں تاریک ، وہ گھنگھور گھٹائیں
موسم کے وہ نغمات کہاں ساز کہاں ہیں
غربت میں سبھی کچھ ہے وہ انداز کہاں ہے