نتائج تلاش

  1. سیدہ شگفتہ

    ٹائپنگ مکمل ہجرت

    اک آگ کی مانند ہے یہ یاد وطن بھی آنسو بھی ہیں آنکھوں میں تو سینے میں جلن بھی شعلے کی طرح منہ سے نکلتا ہے سخن بھی لفظوں میں وہ حدت ہے کہ جل جائے دہن بھی اشعار میں بھی دُودِ فغاں آنے لگا ہے ہر سانس کے ہمراہ دھواں آنے لگا ہے
  2. سیدہ شگفتہ

    ٹائپنگ مکمل ہجرت

    اس رنج میں ہے کتنی تپش کیسے بتاؤں جو آبلے سینے میں ہیں وہ کس کو دکھاؤں بھولے ہوئے خوابوں کو کسے یاد دلاؤں خود جلتا ہوں احباب کے دل تو نہ جلاؤں اظہارِ تپ و سوز کے کرتا ہوں ارادے شاید کوئی آواز میں آواز ملا دے
  3. سیدہ شگفتہ

    ٹائپنگ مکمل مرثیہ: روشنی

    غوغا یہ سیہ کاروں کا سنتے رہے شبّیر کیا رنگ دکھانے لگا تھا اب فلکِ پیر خیموں میں تھیں سب بیبیاں سہمی ہوئی دلگیر ہر ایک کا غم بانٹتی تھیں شاہ کی ہمشیر کہتی تھیں مجھے دیکھ لو کیا کیا نہیں دیکھا لیکن مری آنکھوں نے اندھیرا نہیں دیکھا
  4. سیدہ شگفتہ

    ٹائپنگ مکمل ہجرت

    کچھ لوگ ہیں آثارِ سلف دیکھنے والے ہر بات پہ دیتے ہیں جو ماضی کے حوالے خاطر میں جو لاتے تھے کلیسا نہ شوالے گم ہیں سرِ محفل نہ جوابے نہ سوالے بچے بھی تو اندازِ بیاں بھول رہے ہیں سب بھول کے اب اپنی زباں بھول رہے ہیں
  5. سیدہ شگفتہ

    یا اللہ یہ اسلامی تعلیمات کے نام پر لوگ کیسی کیسی باتیں کرتے ہیں!!!

    یا اللہ یہ اسلامی تعلیمات کے نام پر لوگ کیسی کیسی باتیں کرتے ہیں!!!
  6. سیدہ شگفتہ

    ٹائپنگ مکمل مرثیہ: روشنی

    کس راستے پر تم نے اٹھایا ہے قدم کو کیا سوچ کے میدان میں لائے ہو حرم کو معلوم نہیں تھا تمہیں جانا ہے عدم کو رحم اِن کی مصیبت پہ نہیں آئے گا ہم کو ہاں سامنے اپنے کوئی حیلہ نہ چلے گا اب تک جو جلا ہے چراغ وہ اب نہ جلے گا
  7. سیدہ شگفتہ

    ٹائپنگ مکمل ہجرت

    گم ہو گئی اِک نسل اسی جہدِ بقا میں آنکھیں کھلیں بچوں کی نئی آب و ہوا میں دیکھا ہی نہیں حسن کا وہ رنگ فضا میں صُبحیں ہیں جدا، مختلف انداز کی شامیں طعنے جو دیئے وقت نے تو سہہ نہ سکیں گے پوچھے گی جو تاریخ تو کچھ کہہ نہ سکیں گے
  8. سیدہ شگفتہ

    ٹائپنگ مکمل ہجرت

    اِک اور وطن بھی تھا ذرا یاد نہیں ہے بُت خانے کا عَالم بخدا یاد نہیں ہے وہ شان سے جینے کی ادا یاد نہیں ہے جو چُھٹ گئی وہ آب و ہوا یاد نہیں ہے امروز کا ہے نشہ، غمِ دوش کسے ہے اُس جنتِ گُم گشتہ کا اب ہوش کسے ہے
  9. سیدہ شگفتہ

    ٹائپنگ مکمل مرثیہ: روشنی

    یہ ضد ہے کہ بیعت سے ہو بے وجہ گریزاں خود اپنی تباہی کا کیے جاتے ہو ساماں سرکش نہیں ہوتا کبھی ایسا کوئی انساں اس ضد کو بغاوت کا دیا جائے گا عنواں دیکھو گے پسِ مرگ جو تربت کا اندھیرا چَھٹ جائے گا آنکھوں سے بغاوت کا اندھیرا
  10. سیدہ شگفتہ

    ٹائپنگ مکمل مرثیہ: روشنی

    لٹوا دیئےمیدان میں بے فائدہ انصار ساحل پہ ہے اب لاشہ عباسِ علمدار اکبر کی جوانی کا بھی کیا غم نہیں زنہار قاسم سا بھتیجا بھی فدا کر دیا ناچار تا مرگ نہ دیکھو گے کبھی اپنے پسر کو دانستہ گنوا بیٹھے ہو تم نورِ نظر کو
  11. سیدہ شگفتہ

    ٹائپنگ مکمل مرثیہ: روشنی

    ناگاہ پکارا کوئی، شبّیر کہاں ہیں ہیں کیسے جواں مرد کہ خیمے میں نہاں ہیں میان میں آئیں اگر آسودہ جاں ہیں پانی پئیں شمشیر کا گر تشنہ دہاں ہیں اب روشنی زیست یہاں مل نہیں سکتی بیعت نہ کریں گے تو اماں مل نہیں سکتی
  12. سیدہ شگفتہ

    ٹائپنگ مکمل مرثیہ: روشنی

    تھے لشکرِ اعدا میں خدنگ اور کمانیں پہچانیں پیمبر کو نہ اللہ کو مانیں سوکھی ہوئی تھیں پیاس سے بچّوں کی زبانیں ہونٹوں پہ چلی آئی تھیں کِھچ کے سبھی جانیں اطفال تھے سکتے میں کہیں اور کہیں غش میں تھے ڈوبنے کو تارے یہ دریائے عطش میں
  13. سیدہ شگفتہ

    یہ دراصل صبا اکبر آبادی کے ایک مرثیہ "روشنی" کا ایک مصرعہ ہے، اس مصرعہ کو مکمل بند میں یہاں...

    یہ دراصل صبا اکبر آبادی کے ایک مرثیہ "روشنی" کا ایک مصرعہ ہے، اس مصرعہ کو مکمل بند میں یہاں ملاحظہ کر سکتے ہیں۔ http://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%85%D8%B1%D8%AB%DB%8C%DB%81-%D8%B1%D9%88%D8%B4%D9%86%DB%8C.78546/page-2#post-1632047
  14. سیدہ شگفتہ

    ٹائپنگ مکمل مرثیہ: روشنی

    فی الجملہ یونہی ختم ہوا شاہ کا لشکر قاسم بھی گئے سوئے جناں فوج سے لڑ کر اک قلب تھا شبیر کا اور داغ بَہتّر بس خیمے میں خود شاہ تھے ، عباس نہ اکبر جو کچھ تھا لٹا بیٹھے وہ مولا رہِ دیں میں اصغر سا ستارہ بھی دبا آئے زمیں میں
  15. سیدہ شگفتہ

    ٹائپنگ مکمل ہجرت

    کیا کیجئے بیاں عَالمِ غربت کا جو غم ہے ہر نقش وطن کا وِرقِ دل پہ رقم ہے احباب وعزا کی جدائی کا الم ہے حاضر ہوں جو مجلس میں تو مولا کا کرم ہے تحریر پہ قدرت ہے نہ قابو میں زباں ہے خود وہ ہی مدد کرتے ہیں یہ جن کا بیاں ہے عمر گزراں بڑھنے لگی، گُھٹنے لگا دم بجھنے کو ہے جب آگ تو شعلے ہوئے برہم اسبابِ...
  16. سیدہ شگفتہ

    بُجھ کر بھی چراغوں کا اُجالا نہیں جاتا

    بُجھ کر بھی چراغوں کا اُجالا نہیں جاتا
  17. سیدہ شگفتہ

    ٹائپنگ مکمل مرثیہ: روشنی

    جب چند جری ہو گئے قربان شہِ دیں انصار کی لاشوں پہ گئے خود شہِ غمگیں فرمایا، شہیدو! تمہیں جانبازی پہ تحسین دنیا نے کہیں ایسی مثالیں نہیں دیکھیں اس سوز پہ دل ہم سے سنبھالا نہیں جاتا بُجھ کر بھی چراغوں کا اُجالا نہیں جاتا
  18. سیدہ شگفتہ

    ٹائپنگ مکمل مرثیہ: روشنی

    بارش ہوئی تیروں کی جو افواجِ ستم سے انصارِ حسین ابنِ علی سینہ سپر تھے تیر آئے اُدھر سے تو اِدھر سینوں پہ روکے تکلیف کوئی شاہِ زمانہ کو نہ پہنچے روشن ہوئے ایمان محبت کے چلن سے زخموں سے لہو نکلا کہ لَو شمع بدن سے
  19. سیدہ شگفتہ

    ٹائپنگ مکمل مرثیہ: روشنی

    تھی روشنی ایمان کی طینت میں جو شامل حُر ، حق کی طرف آ گیا خود چھوڑ کے باطل شبّیر کے قدموں پہ گرا، مل گئی منزل اب تک جو نہ پایا تھا وہ رُتبہ ہوا حاصل تارے سے چٹکنے لگے بزمِ دل و جاں میں پروانہ بنا شمع امامت کا جہاں میں
  20. سیدہ شگفتہ

    ٹائپنگ مکمل مرثیہ: روشنی

    طالع ہوئی میداں میں جو صبح شب عاشور سامانِ جدل کرنے لگے ظالم و مغرور ظُلمت کی تھی یلغار اُدھر اور اِدھر نور آئینے میں منہ دیکھ رہی تھی شبِ دیجور آندھی سی سیاہی کی اٹھی شام کے بن میں خورشید امامت کا اب آیا تھا گہن میں
Top