کیا کیجئے بیاں عَالمِ غربت کا جو غم ہے
ہر نقش وطن کا وِرقِ دل پہ رقم ہے
احباب وعزا کی جدائی کا الم ہے
حاضر ہوں جو مجلس میں تو مولا کا کرم ہے
تحریر پہ قدرت ہے نہ قابو میں زباں ہے
خود وہ ہی مدد کرتے ہیں یہ جن کا بیاں ہے
عمر گزراں بڑھنے لگی، گُھٹنے لگا دم
بجھنے کو ہے جب آگ تو شعلے ہوئے برہم
اسبابِ...