اُس سمت سے اصرار تھا بیعت طلبی کا
اِس سَمت تھا وہ عزم و یقیں سبطِ نبی کا
اُس سَمت اندھیرا ہی رہا تیرہ شبی کا
تھا نور اِدھر سبطِ رسولِ عربی کا
اُس سَمت بجھے جاتے تھے دل اہلِ جفا کے
اِس سمت بَہتّر تھے چراغ اہلِ وفا کے
آئی تھی نئے رُخ پہ شقاوت کی کہانی
اولادِ محمد کو نہ دانہ تھا ، نہ پانی
خواہش تھی کہ مٹ جائے پیمبر کی نشانی
حیرت سے رُکی جاتی تھی دریا کی روانی
افواجِ سیہ کیش کے آنے لگے بادل
کالے جو علم کُھل گئے چھانے لگے بادل
کوفے میں تھے مامور شقی اور ستمگار
حضرت کو مدینے سے بلایا تھا بہ اصرار
یثرب میں تو شبیر کے لاکھوں تھے مددگار
نرغے میں سیہ کاروں کے اب تھے شہ ابرار
اشرار کا رُخ کعبے کی جانب سے پھرا تھا
مہتاب سیادت کا بلاؤں میں گھرا تھا
ہر ایک کا دل الفتِ شبّیر سے سرشار
ہر ایک کی نظروں میں جوانمردی کے آثار
ہر ایک کی خواہش کہ کھلے خلد کا گلزار
سو جان سے ہر ایک فدائے شہ ِ ابرار
آنچ آئے نہ سبطِ شہِ کونین کے دم پر
سر کاٹ کے خود ڈال دیں حضرت کے قدم پر
وہ اکبر و عباس کے انوارِ جلالت
وہ قاسمِ نوخیز، وہ شبّر کی امانت
مسلم کے وہ بھائی پئے امداد و اطاعت
ہر ایک کے سینے میں بھڑکتی ہوئی حدّت
باطل کے عدو، صدق و صداقت کے فدائی
زینب کے پسر شمع امامت کے فدائی
وہ کرب و بلا، دشتِ ستم، عرصہ آفات
غربت کا وہ دن اور مصائب سے بھری رات
انصارِ گرامی کی محبّت کے کمالات
ہر ایک کی جاں عظمتِ شبّیر کی خیرات
وہ شام کی افواجِ سیہ کار کا عالم
وہ ابنِ یداللہ کے انوار کا عالم
ہر جور گوارا کیا ، ہر ظلم سہارا
تھا آسرا ایمان کا قرآں کا سہارا
لیکن کیا نہ طاعتِ باطل کو گوارا
امداد کو پہنچے جہاں امت نے پکارا
گھر اور وطن چھوڑ دیا راہِ خُدا میں
یہ چاند مدینے سے گیا کرب و بلا میں