شبّیر تھے قرآن و شریعت کے نگہباں
شبّیر سے تھی رونق و رنگینی ایماں
شبّیر کی نظروں میں تھا بے وقریہ طوفاں
شبّیر بچائے تھے چراغِ تہِ داماں
جتنی بھی ہوا تیز چلی جور و ستم کی
لَو اور بڑھاتے رہے یہ شمع حرم کی
ناگاہ سوئے شام سے اک ابر سا اٹھا
چھانے لگا انوارِ شریعت پہ اندھیرا
طوفانِ ستم چاروں طرف ہو گیا برپا
اک مرکزِ انوار تھا دم ابنِ علی کا
تھے جتنے سیہ قلب وہ آمادہ شر تھے
شبّیر تھے طوفان میں جو سینہ سپر تھے
تھے گلشنِ فردوس میں حیدر بھی نبی بھی
شبّر نے زہراب سے پھر پیاس بجھائی
باقی تھی مدینے میں جو اولاد نبی کی
تاریکی اذہان میں بس اُن کی خلش تھی
تھا قبرِ محمد کا چراغ آج بھی روشن
شبّیر سے ہوتے تھے دماغ آج بھی روشن
دشمن جو نبی کے تھے ، ہوئے آل کے دشمن
خصلت کے برے ، صحتِ اعمال کے دشمن
نکبت زدہ تھے عزت و اقبال کے دشمن
ماضی کے جو دشمن تھے ہوئے حال کے دشمن
تھیں نیّتیں تاریک جو اربابِ ستم کی
مقصد تھا کہ روشن نہ رہے شمع حرم کی
اس نورِ ازل سے جو اندھیروں کو تھا کینہ
وہ کینہ اترتا ہی رہا سینہ بہ سینہ
ڈھونڈا کیے سب اس کو مٹانے کا قرینہ
ہیرے کو بتانے لگا شیشے کا نگینہ
پیہم تھی لگن دشمنی آلِ نبی کی
اک آگ سُلگتی ہی رہی بو لہبی کی