اک شمع ضیا بار ہے یا آج قلم ہے
قرطاس، تہ دامنِ قندیلِ حرم ہے
اب جتنا اُجالا ہو سر بزم وہ کم ہے
تفسیرِ تجلی مرا انداز رقم ہے
نور احدیت کا بیاں ہے سرِ مجلس
جو لفظ ہے انوارِ فشاں، رہے سرِ مجلس
ہر گوشہ تاریک ضیا بار ہوا ہے
جو نقطہ ہے وہ مطلع انوار ہوا ہے
ہر دائرہ مہتاب شب تار ہوا ہے
الفاظ سے خورشید...