باہر جو ہوئی نیام سے شمشیر حسینی
خیرہ کُن لشکر ہوئی تنویر حسینی
تھی منزل والسیف کی تفسیر حسینی
مثل خط تنسیخ تھی تحریر حسینی
جو گھاٹیاں تھیں راہ میں سب پاٹ کے رکھ دیں
اک وار میں لاکھوں کی صفیں کاٹ کے رکھ دیں
تھا غارِ حرا جس کی تجّلی سے منّور
وہ گلشنِ توحید کا شاداب گل تر
بچپن سے چلا تھا جو رہ صدق و صفا پر
جب حکمِ خدا اُس کو ملا، چھوڑ دیا گھر
انداز بدلنا تھا جو دنیائے دنی کا
امت کو دیا درس غریب الوطنی کا
وہ کون؟ جو دنیا میں تھا پیمبرِ آخر
ہر شئے کو بنایا گیا جس ذات کی خاطر
جو خلقتِ کونین کا تھا شاہد و ناظر
وہ حامد و محمود و نذیر اور مبشر
لایا تھا زمانے میں جو پیغام خدا کا
بندوں کے لیے آخری انعام خدا کا
پھر ہاتھ گیا شہ کا سوئے قبضہ شمشیر
لب پر ملک الموت کے تھا نعرہ تکبیر
زندہ ہوئی گویا اسداللہ کی تصویر
چلّائے یہ دشمن کہ دغا دے گئی تقدیر
ہم موم کے پتلوں کو پگھلنا ہی پڑے گا
یہ آگ نہیں بخشے گی جلنا ہی پڑے گا
طوفان کی صورت صفِ اعدا میں در آیا
جم گھٹ تھا جدھر اہلِ ستم کا اُدھر آیا
معلوم نہ ہوتا تھا کب آیا کدھر آیا
آنکھوں سے وہ اندھا ہوا جس کو نظر آیا
سمجھے کہ یہاں تھا ابھی دیکھا تو وہاں تھا
رہوارِ حسینی نہیں اک وہمِ رواں تھا
اس عالمِ حیرت سے عقیدت نے نکالا
ہر بات کو رد کر کے ہر آواز کو ٹالا
لغزش جو ارادوں میں ہوئی اُس کو سنبھالا
ہر گرد سے آئینہ خاطر کو اُجالا
یہ سوچ کے پرواہ نہ کی رنج و بلا کی
ہجرت بھی تو سنت ہے رسولِ دوسرا کی
آوازوں کے طوفان میں ڈوبی تھی سماعت
کچھ بھی نہیں آتا تھا سمجھ میں بصراحت
کچھ لہجے تصنع کے تھے کچھ میں تھی محبت
کچھ دیر کو طاری رہا اک عالمِ حیرت
ایّامِ گزشتہ کے حَوالے بھی بہت تھے
دشمن بھی تھے اور چاہنے والے بھی بہت تھے
اک سمت سے آباء کے مزاروں نے پکارا
اک سمت سے پریوں کی قطاروں نے پکارا
محبوبوں کے خاموش اشاروں نے پکارا
لَب کھول کے جمنا کے کناروں نے پکارا
سب کی یہ صدا تھی ہمیں کیوں چھوڑ رہے ہو
دیکھو تو ہمیں، کس لیے منہ موڑ رہے ہو
بُلبل نے پکارا، مرے نغمات تو سُن لو
پھولوں نے کہا، ہم سے ذرا بات تو سُن لو
بھولی ہوئی برسوں کی حکایات تو سُن لو
ہنگامہ امکان و محالات تو سُن لو
گھر چھوڑ کے نادیدہ بلاؤں میں گھرو گے
اس باغ سے نکلو گے تو آوارہ پھرو گے
آواز دی ذرّوں نے کہ رُک جاؤ نہ جاؤ
اِس ربطِ قدیمی کو نہ ٹھکراؤ نہ جاؤ
بھڑکے ہوئے جذبات کو ٹھہراؤ نہ جاؤ
اپنے دلِ نافہم کو سمجھاؤ نہ جاؤ
پھر ایسے سخن گو نہ سخن سنج ملیں گے
نکلو گے وطن سے تو بڑے رنج ملیں گے