وہ شا ہِ اُمم، فخرِ بشر، نورِ مجسم
تھی جس کے تصرف میں شہنشاہی عالم
تبلیغ میں توحید کی مصروف تھا ہر دَم
کفار نے ہر گام پہ ایذائیں دیں پیہم
حد کوئی بھی باقی نہ رہی جور و ستم کی
جاں لینے کے خواہاں تھے شہنشاہِ اُمم کی
جب فوجِ ستم کو نہ رہا جنگ کا یارا
کرنے لگا ہر ایک لڑائی سے کنارا
بُزدل کوئی اُن میں سے بصد یاس پکارا
اے سبطِ نبی رحم کرو اب تو خدارا
یہ شعلہ شمشیر رہائی نہیں دیتا
آنکھوں میں ہے اندھیرا دکھائی نہیں دیتا
اب خود و زرہ کام میں آتے تھے نہ ڈھالیں
زچ ہو گئے تھے بند تھیں سب زیست کی چالیں
ہاتھوں کو یہ مہلت نہ تھی تلوار نکالیں
گردن کو بچائیں کہ سر و پا سنبھالیں
ایسی تو روانی کبھی دیکھی ہی نہیں تھی
اک نُور کی تھی دھار کہ رُکتی ہی نہیں تھی
ہر بات تھی آئینہ آیاتِ الٰہی
ہر سانس میں تھی کفر و ضلالت کی تباہی
قلبِ بشریت کی جو دھونا تھی سیاہی
مہر و مہ و انجم نے بھی دی اُس کی گواہی
تابع تھے کواکب بھی جو اُس پاک نظر کے
ٹکڑے کئے انگشتِ شہادت سے قمر کے