جبریل نے آ کر یہ کہا اے شہ والا
مکے سے چلے جائیے ہے حکم خدا کا
محفوظ وہی راستہ ہے صبر و رضا کا
ہو جائے گا خود خاتمہ ہر رنج و بلا کا
تفویض امانت کریں اب حق کے ولی کو
بستر پہ سُلا جائیے بس اپنے علی کو
مامور ملائک جو حفاظت کے لئے تھے
سب خدمت سرکار رسالت کے لئے تھے
جبریل نگہباں در دولت کے لئے تھے
پردے بہت ارباب ضلالت کے لئے تھے
ٹھانے ہوئے گو دشمن سرکار تھے کچھ اور
یاں خواب گہ خاص کے اسرار تھے کچھ اور
تھے صحن حرم میں ابھی اصنام بہت سے
ناگفتہ تھے اللہ کےپیغام بہت سے
تکمیل طلب دین کے تھے کام بہت سے
ملنے تھے رسالت کے بھی انعام بہت سے
جوہر نہ کھلے تھے ابھی کردار علی کے
پردے ابھی اٹھنے تھے جمال ازلی کے
کیا کیا نہ سہی سرورِ کونین نے ایذا
مکّے میں جو کافر تھا وہی دشمنِ جاں تھا
معدود تھے احباب تو گنتی کے اعزّا
لے دے کے جو تھا آسرا کوئی تو خدا کا
توحید کے اعلان نے طوفان اٹھایا
تیرہ برس اعدا نے بہر رنگ ستایا
یہ سن کے شہِ دیں نے وہیں روک لی شمشیر
گھوڑے سے اُتر آئے بیک نعرہ تکبیر
کام آ گئی اشرارِ ستم پیشہ کی تدبیر
اک مرتبہ سب ٹوٹ پڑے جانبِ شبیر
یوں کام دَغا سے لیا اربابِ دغا نے
سب مل کے چلے شمع امامت کو بُجھانے