ہیبت ابھی طاری تھی جگر بند علی کی
پاس آئے یہ ہمت نہیں ہوتی تھی کسی کی
دشمن تھے مگر پھر بھی یہ خواہش تھی سبھی کی
ہم پر نہ پڑے بوند کوئی خون نبی کی
جب شمر نے یہ حوصلہ دیکھا نہ کسی کا
سر کاٹ لیا بڑھ کے حسین ابن علی کا
مکے سے مدینے کو چلے تھے جو پیمبر
موجود نیابت کے لیے تھے وہاں حیدر
شبیر مدینے سے چلے چھوڑ کے جب گھر
چھوڑی تھی نشانی کو وہاں چھوٹی سی دُختر
حیدر تو مدینے میں ملے جا کے نبی سے
صُغرا نہیں مل پائی حسین ابن علی سے
باطل سے کبھی ہم نہ ڈرے تھے نہ ڈریں گے
قُرآن کا جو حکم ہے وہ کام کریں گے
فریاد نہ ہوگی، نہ کبھی آہ کریں گے
اس راہ میں مرنا ہے مقدر تو مریں گے
جاں دے کے زمانے سے مٹانا ہے بدی کو
آغوش میں لینا ہے حیاتِ ابدی کو
تیروں کے کہیں زخم تھے ، تن میں کہیں پیکاں
پیاسے کا لہو خاک پہ مقتل کی تھا ارزاں
اک حشر سا برپا تھا سر عالم امکاں
احمد کا نواسا تھا جگر خستہ و حیراں
زخمی تھا مگر رُوح میں ایماں کی رو تھی
اس بجھتی ہوئی شمع میں اسلام کی ضو تھی
اُٹھے رہے دیں میں جو قدم رک نہیں سکتے
دل میں لئے اسلام کا غم، رُک نہیں سکتے
باطل سے کبھی حق کی قسم ، رک نہیں سکتے
رُک جائے رَوش دہر کی، ہم رک نہیں سکتے
ہے جان کا غم ہم کو نہ ڈر تشنہ لبی کا
بھولے نہیں فرمان رسول عربی کا
وہ لوگ ابھی رحم کی جو مانگتے تھے بھیک
تھا جن کی نگاہوں میں زمانہ ابھی تاریک
سجدے میں گئے شہ تو ہوئی ظلم کو تحریک
ہاں رعبِ امامت سے نہ آیا کوئی نزدیک
بس دور کے حملوں سے ہی یہ حال کیا تھا
تیروں سے جسدِ شاہ کا ۔۔۔کیا تھا
شبیر نے فرمایا کہ ہے حکم خدا کا
طیبہ سے نکل جائیں تقاضا ہے فضا کا
طوفان سا ہے شام میں اب جَور و جفا کا
رُخ ہم کو بدلنا ہے زمانے کی ہوا کا
اسلام کی آواز ہے، فریاد ہے دیں کی
آیات صدا دیتی ہیں قُرآنِ مُبیں کی
سرکارِ رسالت کی یہ ہجرت کا تھا منظر
تھا ساٹھ برس بعد مگر عالم دیگر
جب چھوڑ کے طیبہ کو چلے سبطِ پیمبر
اصحاب نے روکا کہ کہاں جاتے ہیں سرور
طیبہ کی سی آسائشِ جاں مل نہ سکے گی
کوفے کی فضاؤں میں اماں مل نہ سکے گی
یہ شام تھی مکے کی، اُدھر صبحِ مدینہ
گہورہ مسرت کا تھا انصار کا سینہ
پھولوں پہ وہ شبنم تھی کہ چہروں کا پسینہ
ہر قلب تھا جذباتِ عقیدت کا خزینہ
گھر سے نکل آیا تھا ہر اک راہ گزر تک
بچھی ہوئی آنکھیں تھیں سبھی حدِ نظر تک
تھا بھوکا پیاسا جو کئی دن کا مسافر
گھر بھر کو لُٹا بیٹھا جو اسلام کی خاطر
خدمت میں محمد کی اُسے ہونا تھا حاضر
شبیر نے مقتل میں کیا سجدہ آخر
سر، بارگہ حق میں جھکائے رہے شبیر
اللہ سے لَو اپنی لگائے رہے شبیر
مکے سے نکلنے کی عجب شام تھی وہ بھی
تاریک ہوئی جاتی تھی لَو شمع حرم کی
چھائی تھی ہر اک سمت فضاؤں پہ اُداسی
تعمیر خلیلی کو بھی تھا رنجِ جُدائی
نکلے جو نبی، غم سے نکلنے لگے آنسو
خود چشمہ زمزم سے اُبلنے لگے آنسو