ابھی کل ہی تو بات ہے کہ اکمل زیدی بھائی نے اس لڑی میں اپنا " منظوما" پیش کیا تھا لیکن چند ہی گھنٹوں میں پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ گیا اور یارانِ خوش مزاج نے مراسلوں کے ڈھیر لگادییے۔ اس ڈھیر میں اساتذہ کی چند قیمتی آراء بھی دب کر رہ گئیں۔ اس صورتِ حال میں جب کی اساتذہ اپنی رائے دے چکے، ہم...