درست
دوسرا مصرع اچھا نہیں لگ رہا، مجہول ہو گیا بیانیہ
دو لخت ہے، رب کی رضا پانا ضروری ہو سکتا ہے، لیکن مقصد ہے... ٹکڑا درمیان میں غلط ہے
دوسرے مصرعے میں "جو" روح سے پہلے آنا تھا، الفاظ کی ترتیب بدلیں
اگر 'یوں رب کی ہو عبادت' کہیں تو کیا بہتری محسوس ہوتی ہے؟
ٹھیک
قریب قریب ایسا ہی مجھے بھی یاد آیا کہ یا ایتھا نفس المطمئنہ والی آیت پر مجھے ہمیشہ مکیش کا ہی یہ گیت یاد آتا ہے
اے مرے دل
لہرا کے چل
. موسم بھی ہے
وعدہ بھی ہے
طرفہ تماشہ ہے اکتوبر، سردی بھی شروع ہو جاتی ہے اور گرمی بھی جاری رہتی ہے بقول مرحومہ امی کے کہ اکتوبر میں بھٹے پکنے کی گرمی ہوتی ہے، غالباً وطن مالوف مالوہ کے علاقے میں
دشمناں اضافت کےساتھ ہو تو قابل قبول ہے، ورنہ نہیں
یہ بحر بھی منقطع بحر ہے، یعنی فاعلن مفاعیلن دو بار، اور ہر فاعلن مفاعیلن میں بات مکمل ہونی چاہیے، آخری شعر میں جوترتیب ہے، وہ بھی درست نہیں لگتی۔ دیتا.... ہے الگ الگ افاعیل میں ترتیب پا رہا ہے