اگر ہمیں اصلاح کرنی آتی ہوتی تو پہلی فرصت میں کر دیتے۔ :)
دعا کیجے کہ تابش بھائی کو جلد از جلد اظہارِ انکساری سے فرصت مل جائے، اور وہ اصلاح سخن میں آپ کا کلام دیکھ سکیں۔ :)
ایک اور چیز بڑی عجیب دیکھنے کو ملتی ہے کہ آج کل کپڑوں پر اتنا بڑا بڑا برانڈ کے نام لکھا ملتا ہے کہ جیسے ڈیزائن کی اصل تھیم ہی یہ ہو۔
میں ایسے لوگوں کو کہتا ہوں کہ تم اپنے تئیں یہ برانڈ اپنی جیب سے خرید کر خوش ہو رہے ہو۔ حالانکہ میرے حساب سے تم یہ لباس پہن کر کمپنی کی پبلیسٹی کر رہے اور...
بالکل!
افسوس تو اُن لوگوں پر ہوتا ہے کہ جو اپنے رویّے سے کچی عمر کے بچوں کو حرص و ہوس کے رستے پر ڈال دیتے ہیں۔
واہ! کیا خوبصورت بات ہے۔ گو کہ اس میں اپنی انا کا خون ہوتا ہے لیکن معاشرے میں سدھار کےلئے بہت عمدہ طریقہ ہے۔
میں بھی یہ طریقہ آزماؤں گا ان شاءاللہ۔
آمین۔