ظریفانہ غزل از حیوانِ ظریف
اُڑاتے روز تھے انڈے پراٹھے
پر اب کھاتے ہیں ہر سنڈے پراٹھے
یہاں ہم کھا رہے ہیں چائے روٹی
وہاں کھاتے ہیں مسٹنڈے پراٹھے
ترستے لقمہ ٴ تر کو ہیں اب تو
وہ کیا دن تھے کہ تھے فن ڈے، پراٹھے
کہا بیگم رعایت ایک دن کی
پکا لیجے گا اِس منڈے پراٹھے
کہا بیگم نے ہے پرہیز بہتر...
فریاد کی لے
از محمد احمدؔ
وہ اِس وقت ذہنی اور جسمانی طور پر بالکل مستعد تھا۔ بس انتظار تھا کہ مولوی صاحب سلام پھیریں اور وہ نماز ختم کرکے اپنا کام شروع کر دے۔ اُس نے اپنے ذہن میں اُن لفظوں کو بھی ترتیب دے لیا تھا جو اُس نے حاضرینِ مسجد سے مخاطب ہو کر کہنا تھے۔ جیسے ہی مولوی صاحب نے سلام...
اگر شدید نیند نہیں آ رہی ہوتی تو اس بات کا ایسا جواب دیتے، ایسا جواب دیتے کہ یاد کرتے کہ کس چوکس آدمی سے پالا پڑا تھا۔ لیکن آپ کی خوش قسمتی۔ :nerd::kiss: