تمام رات گزر جائے گی سنانے میں
غزل سی بات نہ ہو پائے گی فسانے میں
یہ مصلحت ہے محبت کے ہر بہانے میں
کہ جان ہی نہ چلی جائے جان جانے میں
کسی نے قدر کسی کی نہ کی زمانے میں
نگار کون نہیں تھا نگار خانے میں
چنی ہیں ڈر نے سلاخیں بجائے تنکوں کے
قفس کا رنگ نمایاں ہے آشیانے میں
فریب خود کو بھی دیکھے...