ارشد رشید کے شفا ہو جانا والی بات میں کچھ دم ضرور ہے، لیکن باقی اعتراضات میں نہیں۔
جو شعر مثال میں دیا ہے، جگر کی اس غزل کا مطلع ہے
نوید بخشش عصیاں سے شرمسار نہ کر
گناہ گار کو یا رب! گناہ گار نہ کر
مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن
فیض کا شعر میں تو کسی اور طریقے سے نہیں پڑھ سکتا۔