چاہے بحر میں افاعیل بدلنے کی اجازت ہو، مگر روانی تو انہیں مستعمل طریقے سے برتنے پر ہی پیدا ہوتی ہے
مطلع شکیل نے درست کر دیا ہے، ورنہ تمہارے شعر کے مفہوم سے تو لگ رہا تھا کہ تم ہی خدا بن جانے کی بات کر رہے ہو!
دیکھو یہ شکل بھی روانی میں کس قدر گنجلک ہے۔ شکیل میاں کا مجوزہ مصرع بھی روانی چاہتا...