لیجے سراج الدین ظفر بھی آھمکے ۔۔۔
گلا کھنکارا اور مخمور آنکھوں کو ہتھیلیوں کی پشست سے مسل کر انہیں سرخ انگارہ کیا۔
اور گویا ئے ۔۔
’’ مری طریقتِ رندی سمجھ سکا نہ کوئی
کہ زہد عام تھا یاں پر کسی وبا کی طرح ‘‘
۔۔۔
خالد احمد اپنی کرسی سے اٹھے اور ’’ اوے ےے۔۔ میرا یار ۔۔ ‘‘ کہہ کر گلے لگ...